Meaning of

شہزادی

shaahzaadi • शाहज़ादी

شہزادی; اشرافیہ خاتون

princess; noblewoman

राजकुमारी; कुलीन महिला

Persian

اس کھنڈر پر نہیں رکنا میری منزل ہے محل
خواب شہزادی کا دیکھا تھا خزانے کا نہیں

0

Download Image

جب سر شام پذیرائی فن ہوتی ہے
شہزا
گرا کو کنیزوں سے جلن ہوتی ہے

لے تو آیا ہوں تجھے گھیر کے اپنی جانب
آگے انسان کی اپنی بھی لگن ہوتی ہے

23

Download Image

سوچ لو کنکر چبھیں گے اور پھروں چھپر دکھے گا
شہزادی میرے گھر ہے وہ ہے وہ بس تمہارا سر دکھے گا

4

Download Image

شہزا
گرا خبر نہیں تجھ کو
تجھ پہ کتنے غلام مرتے ہیں

4

Download Image

کیا لکھوں ا
سے کے سوا تعریف ہے وہ ہے وہ ہے وہ
شہزا
گرا لگ رہی ہوں خلد کی

2

Download Image

اے شہزا
گرا خاک بیزی کا دفاع کرنا
ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنا دل تری کوچے ہے وہ ہے وہ چھوڑ آیا ہوں

1

Download Image

ایک دیوانے کی یادوں ہے وہ ہے وہ ایک دیوانی رقص کرے گی
سناٹے کی تر کٹ دھن پر روز اداسی رقص کرے گی

یار کہانی لکھنے والے جلدی ملوا ہم دونوں کو
ہم دونوں کے ملنے پر ہی تیری کہانی رقص کرے گی

میری غزلیں جاناں فروغ تجلی تو خوشبو خوشبو ہوں جائے گی
چنو چمپا کے پھولوں پر ننھی تتلی رقص کرے گی

تاناشاہ نے کیا سوچا تھا شہزادی کو باندھ سکےگا
پیادے کی دھن پر گائےگی عشق کرے گی رقص کرے گی

اک مدت سے گم سوم تھی جو پیا ملن پر چہک اٹھی ہے
ڈھول نگاڑے بجواو اب پاگل لڑکی رقص کرے گی

ہم دونوں کے مل جانے سے جھوم اٹھےگا سارا پیغام حیات جاوداں
موہن کے کندھے پر سر رکھ رادھا رانی رقص کرے گی

1

Download Image

شہزادی تیرے ماتھے پر یہ زخم رہے گا
لیکن اس کا کو چومنے والا پھروں نہیں ہوگا

0

Download Image

اس کھنڈر پر نہیں رکنا میری منزل ہے محل
خواب شہزادی کا دیکھا تھا خزانے کا نہیں

0

Download Image

جب سر شام پذیرائی فن ہوتی ہے
شہزا
گرا کو کنیزوں سے جلن ہوتی ہے

لے تو آیا ہوں تجھے گھیر کے اپنی جانب
آگے انسان کی اپنی بھی لگن ہوتی ہے

23

Download Image

شہزادی کا لفظ وقار، خوبصورتی اور اشرافیہ کی تصاویر کو ابھارتا ہے۔ شاعری میں، یہ اپنے لغوی معنی سے آگے بڑھ کر خوبصورتی، طاقت اور ناقابل حصول محبت کے نظریات کو مجسم کرتا ہے، اکثر محبوب کی علامت ہوتا ہے جو قابل احترام اور دور دونوں ہوتا ہے۔

شاعر اکثر 'شہزادی' کا استعمال ایک مثالی محبوبہ کی تصویر کشی کے لیے کرتے ہیں، جو دلکش اور ناقابل حصول دونوں ہوتی ہے۔ یہ خوابوں اور خواہشات کے لیے ایک استعارہ کے طور پر کام کرتا ہے جو بس پہنچ سے باہر رہتے ہیں، خواہش اور حقیقت کے درمیان تناؤ کو اجاگر کرتے ہیں۔

شاعری کی دنیا میں، 'شہزادی' خوبصورتی اور محبت کی ابدی تلاش کی علامت بن جاتی ہے، ہمیشہ ناقابل حصول لیکن گہرائی سے عزیز۔