Meaning of

شہر

shahr • शह्‌र

شہر; قصبہ; شہری علاقہ

city; town; urban area

शहर; नगर; नगरीय क्षेत्र

Arabic

سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سو ا
سے کے شہر ہے وہ ہے وہ کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں

75

Download Image

کوئی شہر تھا ج
سے کی ایک گلی
مری ہر آہٹ پہچانتی تھی

مری نام کا اک دروازہ تھا
اک کھڑکی مجھ کو جانتی تھی

323

Download Image

ذرا ٹھہرو کہ شب فیکی بے حد ہے
تمہیں گھر جانے کی جل
گرا بے حد ہے

ذرا نزدیک آ کر بیٹھ جاؤ
تمہارے شہر ہے وہ ہے وہ سر
گرا بے حد ہے

173

Download Image

ہم کو دل سے بھی نکالا گیا تو پھروں شہر سے بھی
ہم کو پتھر سے بھی مارا گیا تو پھروں زہر سے بھی

157

Download Image

ہاتھ خالی ہے تری شہر سے جاتے جاتے
جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے

119

Download Image

یہ شہر اجنبی ہے وہ ہے وہ اب کسے جا کر بتائیں ہم
ک
ہاں کے رہنے والے ہیں ک
ہاں کی یاد آتی ہے

117

Download Image

تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک شام چرا لوں ا
گر برا لگ لگے

94

Download Image

دولت شہرت بیوی بچے اچھا گھر اور اچھے دوست
کچھ تو ہے جو ان کے بعد بھی حاصل کرنا باقی ہے

کبھی کبھی تو دل کرتا ہے چلتی ریل سے کود پڑوں
پھروں کہتا ہوں پاگل اب تو تھوڑا رستہ باقی ہے

91

Download Image

اب لگ ہے وہ ہے وہ حقیقت ہوں لگ باقی ہیں زمانے مری
پھروں بھی مشہور ہیں شہروں ہے وہ ہے وہ فسانے مری

82

Download Image

نئی نئی آنکھیں ہوں تو ہر منظر اچھا لگتا ہے
کچھ دن شہر ہے وہ ہے وہ گھومے لیکن اب گھر اچھا لگتا ہے

77

Download Image

سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سو ا
سے کے شہر ہے وہ ہے وہ کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں

75

Download Image

کوئی شہر تھا ج
سے کی ایک گلی
مری ہر آہٹ پہچانتی تھی

مری نام کا اک دروازہ تھا
اک کھڑکی مجھ کو جانتی تھی

323

Download Image

اپنے اصل معنی میں، 'شہر' زندگی، تجارت اور ثقافت سے بھرپور جگہ کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعری میں یہ انسانی تعلقات، ہجوم کی گمنامی اور شہر کی دیواروں کے اندر خاموش کہانیوں کو اجاگر کرتا ہے۔

شاعر اکثر 'شہر' کا استعمال ہجوم کے درمیان تنہائی کے موضوعات کی تلاش کے لئے کرتے ہیں۔ یہ موقع اور علیحدگی دونوں کی علامت ہو سکتا ہے۔ شہر خوابوں اور مایوسی کے لئے ایک کینوس بن جاتا ہے۔

شاعری میں، 'شہر' اپنے باشندوں کے بے شمار جذبات کا عکس ہے۔