Meaning of

شہر دل

shahre-dil • शहरे-दिल

شہر دل; اندرونی دنیا

city of the heart; inner world

दिल का शहर; आंतरिक दुनिया

Persian

شہر دل کے سرد موسم اور سادہ روح ہم
ساری ماچ
سے پھونک بیٹھے اک ذرا سی آگ کو

0

Download Image

مری انداز زمانے سے نرالے ہوں گے
آج اندھیرے ہیں تو کیا کل کو اجالے ہوں گے

ایک روٹی میں سناتے ہیں تجھے کتنا کچھ
کل سے ہونٹوں پہ تری میرے نوالے ہوں گے

کم سے کم سیکڑوں کو بھوک نے مارا ہوگا
بچ گئے جتنے سبھی درد نے پالے ہوں گے

اب ہمیں موت بھی اڑاؤ نہیں کرتی ہے
زندگی تو ہی بتا کس کے حوالے ہوں گے

ہر دفع چھین لیا میرا نوالا سب نے
پھروں تو بچے بھی تری بھوک نے پالے ہوں گے

ارے کمرے میں مری کچھ بھی نہیں ہے سچی
چار دیوار ملیںگی بچے خانہ خراب ہوں گے

شہر دل میں سنو تو کوئی نہیں رہتا ہے
تم کہاں جا رہے ہو سب میں ہی تالے ہوں گے

چھوڑ کے خود کو زمانے کو دیا ہے مرہم
پھروں تو بے شک ہی تری پاؤں میں چھالے ہوں گے

4

Download Image

کب کس کو ملتا ہے پیار ی
ہاں شہر دہلی ہے وہ ہے وہ ہے وہ
غالب مومن سب ہیں یار ی
ہاں شہر دہلی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

خود کو سب سے دور کیا خود کے قریب آ بیٹھے ہیں
سب ہیں مری شکر گزاری ی
ہاں شہر دہلی ہے وہ ہے وہ

2

Download Image

یوں تو بڑی بڑی ہیں ی
ہاں بے حد مجھے پھروں بھی لوگ ملے نہیں
ہے وہ ہے وہ ہے وہ سمجھ گیا تو بھلے دیر سے بڑے شہر دل کے بڑے نہیں

حقیقت ہمارے گاؤں ہے وہ ہے وہ آتے تھے بڑے شہر والے حقیقت لوگ تھے
کبھی فون ان کا لگا نہیں کبھی حقیقت پتے پہ ملے نہیں

1

Download Image

شہر دل کے سرد موسم اور سادہ روح ہم
ساری ماچ
سے پھونک بیٹھے اک ذرا سی آگ کو

0

Download Image

مری انداز زمانے سے نرالے ہوں گے
آج اندھیرے ہیں تو کیا کل کو اجالے ہوں گے

ایک روٹی میں سناتے ہیں تجھے کتنا کچھ
کل سے ہونٹوں پہ تری میرے نوالے ہوں گے

کم سے کم سیکڑوں کو بھوک نے مارا ہوگا
بچ گئے جتنے سبھی درد نے پالے ہوں گے

اب ہمیں موت بھی اڑاؤ نہیں کرتی ہے
زندگی تو ہی بتا کس کے حوالے ہوں گے

ہر دفع چھین لیا میرا نوالا سب نے
پھروں تو بچے بھی تری بھوک نے پالے ہوں گے

ارے کمرے میں مری کچھ بھی نہیں ہے سچی
چار دیوار ملیںگی بچے خانہ خراب ہوں گے

شہر دل میں سنو تو کوئی نہیں رہتا ہے
تم کہاں جا رہے ہو سب میں ہی تالے ہوں گے

چھوڑ کے خود کو زمانے کو دیا ہے مرہم
پھروں تو بے شک ہی تری پاؤں میں چھالے ہوں گے

4

Download Image

شہر دل کا فقرہ اپنے اندر ایک قریبی، ذاتی دائرے کی تصویر پیش کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی جگہ کا اشارہ دیتا ہے جہاں جذبات، خواب اور خواہشات رہتی ہیں۔ شاعری میں، یہ انسانی دل کی گہرائی اور پیچیدگی کی علامت ہے۔

شاعر 'شہر دل' کا استعمال خود شناسی اور جذباتی مناظر کے موضوعات کو دریافت کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ اسے اکثر روح کے لیے ایک پناہ گاہ، پناہ اور غور و فکر کی جگہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

شہر دل میں، کوئی جذبات کی وسعت پاتا ہے، روح کی گہری خواہشات کا ایک شہر منظر۔