Meaning of

شناسا

shanaasa • शनासा

واقف; شناسا

acquainted; familiar

परिचित; जानकार

Persian

جو پہلو ہے وہ ہے وہ ہے تنہائی ہے مری دوست
یہی اپنی شنا سائی ہے مری دوست

0

Download Image

گھر کی تقسیم ہے وہ ہے وہ انگنائی گنوا بیٹھے ہیں
پھول گلشن سے شنا سائی گنوا بیٹھے ہیں

بات آنکھوں سے سمجھ لینے کا دعویٰ مت کر
ہم اسی شوق ہے وہ ہے وہ بینائی گنوا بیٹھے ہیں

59

Download Image

کو بہ کو پھیل گئی بات شنا سائی کی
ا
سے نے خوشبو کی طرح مری پذیرائی کی

29

Download Image

ہے وہ ہے وہ اطراف ہی رہا دشت شناسائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ
کوئی اترا ہی نہیں روح کی گہرائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

کیا ملایا ہے بتا جام پذیرائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ
خوب نشہ ہے تیری حوصلہ افزائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

تیری یادوں کی سوئی پریم کا دھاگا میرا
کام آئی ہیں بے حد زخموں کی تڑ
پائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

ڈ
سے رہی ہے یہ سیہ رات کی سیپی مجھ کو
بھر رہی زہر خموشی رگ تنہائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

سرمہ مکر و فریب آنکھوں ہے وہ ہے وہ جب سے ہے لگا
تب سے ہے خوب اضافہ حد بینائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

فکر و فن رنگ تغزل لگ غزل کی خوشبو
ب
سے لگا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ قافیہ پیمائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

سیکھ پانی سے ہنر کام انی
سے آئےگا
دوڑ کر خود ہی چلا آتا ہے گہرائی ہے وہ ہے وہ

13

Download Image

ا
سے کی دولت سے شنا سائی ہے
دیر سے بات سمجھ آئی ہے

8

Download Image

اوروں کو اپنے غم سے شناسا لگ کیا کر
ا
سے دودمان زندگی کا تماشا لگ کیا کر

2

Download Image

ی
ہاں میرا کوئی شناسا لگ ہوں
محبت ہوں لیکن تماشا لگ ہوں

0

Download Image

چراغوں مسکرانے سے نہیں ڈرنا
ہوا سے ہوں گئی ہے اب شنا سائی

0

Download Image

مری رکھ کا تماشا کیا ہے کسی نے
سرے آم مجھ کو شناسا کیا ہے کسی نے

0

Download Image

طائر یہ سمجھتا ہے کہ امداد کرےگا
صیاد سے ہی شکوہ صیاد کرےگا

ا
سے بے وجہ سے اتنی سی شنا سائی ہے مری
تکلیف ہے وہ ہے وہ ہوگا حقیقت تبھی یاد کرےگا

0

Download Image

جو پہلو ہے وہ ہے وہ ہے تنہائی ہے مری دوست
یہی اپنی شنا سائی ہے مری دوست

0

Download Image

گھر کی تقسیم ہے وہ ہے وہ انگنائی گنوا بیٹھے ہیں
پھول گلشن سے شنا سائی گنوا بیٹھے ہیں

بات آنکھوں سے سمجھ لینے کا دعویٰ مت کر
ہم اسی شوق ہے وہ ہے وہ بینائی گنوا بیٹھے ہیں

59

Download Image

شناسا لفظ واقفیت اور پہچان کے احساس کو بیدار کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر جانے پہچانے چہروں یا مقامات میں ملنے والے آرام اور گرمجوشی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس میں مشترکہ تاریخ اور باہمی سمجھ کا وزن ہوتا ہے۔

شناسا کا استعمال شاعر اکثر نوستالجیا یا اپنائیت کے احساس کو بیدار کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ اجنبیت یا تنہائی کے احساسات کے برعکس ہو سکتا ہے۔ اکثر، یہ مشترکہ لمحات کی خوبصورتی اور واقف رشتوں میں ملنے والی تسلی کو اجاگر کرتا ہے۔

اپنی اصل میں، 'شناسا' ہمیں جوڑنے والے رشتوں کی نرم یاد دہانی ہے۔ یہ دل کی تعلق کی خواہش کو بیان کرتا ہے۔