Meaning of

شول

shool • शूल

کانٹا; درد; رکاوٹ

thorn; pain; obstacle

कांटा; दर्द; बाधा

Sanskrit

وہی باتیں ا
نہیں لگنے لگی ہیں شول کے جیسی
وہی باتیں جو ان کو ابتدا ہے وہ ہے وہ پھول لگتی تھیں

0

Download Image

بو ا
گر تو بھی شول بوتا ہے
عشق ہے وہ ہے وہ سب قبول ہوتا ہے

مری فن کے مزاج پہ مت جا
ناچتے سمے مور روتا ہے

8

Download Image

بدن پہ اوڑھ لیے شول پیرہن کے لیے
سلطان کتنے ہی گل ہوں گئے چمن کے لیے

1

Download Image

درد محبت کانٹے پھول
تیری دی ہر چیز قبول

تجھ کو اک دن کھونا ہے
چبھتا رہتا ہے یہ شول

تیری یاد کے سائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ
رہتا ہوں ہر پل مشغول

کاش تمہیں ہے وہ ہے وہ پا سکتا
کاش دعا ہوتی یہ قبول

چا
ہوں ا
سے دنیا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ
پیار ہمارا ہوں اڑاؤ

تجھ ہے وہ ہے وہ ب
سے کھونا چا
ہوں
دنیا داری سب کچھ بھول

1

Download Image

سویم کی کھوج ہے وہ ہے وہ ج
سے نے سویم کا مول جانا ہے
نوکیلے شول کو ا
سے نے ی
ہاں پر پھول جانا ہے

سبھی ندیوں کی چاہت ہے سمندر جیت لینا پر
سمندر سے ملن پر تو سویم کو بھول جانا ہے

1

Download Image

کب عدالت کسے بری کر دے
فیصلہ اب اٹل نہیں ہوتا

شول بوتے ہیں پاؤں کے نیچے
سچ پہ چلنا سہل نہیں ہوتا

0

Download Image

وہی باتیں ا
نہیں لگنے لگی ہیں شول کے جیسی
وہی باتیں جو ان کو ابتدا ہے وہ ہے وہ پھول لگتی تھیں

0

Download Image

بو ا
گر تو بھی شول بوتا ہے
عشق ہے وہ ہے وہ سب قبول ہوتا ہے

مری فن کے مزاج پہ مت جا
ناچتے سمے مور روتا ہے

8

Download Image

اپنے اصل معنی میں، 'شول' کانٹے کی نوک دار اور چبھنے والی فطرت کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعری نے اس لفظ کو زندگی کے اندرونی درد اور رکاوٹوں کی علامت بنا لیا ہے، جو اکثر نظر نہیں آتے لیکن گہرائی سے محسوس کیے جاتے ہیں۔

شاعر اکثر 'شول' کا استعمال دل کے چھپے ہوئے درد کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ محبت میں رکاوٹوں یا وجود کی چبھتی سچائیوں کی نمائندگی کر سکتا ہے۔ یہ لفظ نرم تصویروں کے برعکس ہے، حقیقت کی سختی کو اجاگر کرتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'شول' ہمارے اندرونی دنیا کو شکل دینے والے ان دیکھے جدوجہد کا ثبوت ہے۔