Meaning of

سدھ

siddh • सिद्ध

کامل; مکمل; روشن ضمیر

accomplished; perfected; enlightened

संपन्न; सिद्ध; प्रबुद्ध

Sanskrit

شاعری تو سدھار دوں ہے وہ ہے وہ م
گر
ا
سے سے رشتے بگڑ گئے تو پھروں

2

Download Image

کسی کی چند راتوں کا سدھاکر ہوں نہیں پایا
تمہاری ارمیوں کا ہے وہ ہے وہ اڑنتر ہوں نہیں پایا

سہل تھیں من کی پرتیمائیں م
گر افسو
سے ہے اتنا
ہے وہ ہے وہ ہے وہ سب کچھ تھا تیرا مہن
گرا مہاور ہوں نہیں پایا

8

Download Image

محبت سے سبھی ہیں دور زبان
نئے لڑکے سدھارے جا رہے ہیں

6

Download Image

جیون ہے وہ ہے وہ اک سہل سا ہی سدھانت ہے میرا
جو رام کا نہیں حقیقت کسی کام کا نہیں

4

Download Image

ملے ہے یار ہاں موقعے سُدھرنے کے ی
ہاں دل کو
سمجھ ہے وہ ہے وہ بات آ جائے سبھی ہاں پھروں سدھر جائے

3

Download Image

مجھ کو اب تجھ سے دل کی امید نہیں ہے
تجھ کو ہے وہ ہے وہ سدھ آ جاؤں اتنا کافی ہے

2

Download Image

بات سن لو میری سدھر جاؤ
عشق اچھا نہیں ہے گھر جاؤ

2

Download Image

چل دیا پلٹ کے ہے وہ ہے وہ گھر خمار باقی ہے
کچھ سدھار ہے مجھ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ سدھار باقی ہے

ساتھ جو مری تھا ہے وہ ہے وہ قرض دار سبکا ہوں
شکر ہے خدا مجھ
پہ اک ادھار باقی ہے

2

Download Image

سدھارا
سے آپ کے ادھروں سے تھوڑا سا پلا دو تو
مری دل کا یہ ریگستان بھی دل ناشاد ہوں جائے

2

Download Image

عادتیں ساری چھوڑ دی ہے وہ ہے وہ نے
جاناں تو مجھ کو سدھار کر گئی ہوں

2

Download Image

شاعری تو سدھار دوں ہے وہ ہے وہ م
گر
ا
سے سے رشتے بگڑ گئے تو پھروں

2

Download Image

کسی کی چند راتوں کا سدھاکر ہوں نہیں پایا
تمہاری ارمیوں کا ہے وہ ہے وہ اڑنتر ہوں نہیں پایا

سہل تھیں من کی پرتیمائیں م
گر افسو
سے ہے اتنا
ہے وہ ہے وہ ہے وہ سب کچھ تھا تیرا مہن
گرا مہاور ہوں نہیں پایا

8

Download Image

سِدھ کا لفظ تکمیل اور مہارت کا احساس دلاتا ہے۔ اپنے اصل سیاق و سباق میں، یہ کسی ایسے شخص کو ظاہر کرتا ہے جس نے روحانی یا فکری کامیابی کی اعلیٰ سطح حاصل کی ہو۔ شاعری نے اس لفظ کو خود شناسی کے سفر اور اندرونی سکون کے حصول کو بیان کرنے کے لیے اپنایا ہے۔

شاعر اکثر 'سِدھ' کا استعمال روشن خیالی اور خود شناسی کے موضوعات کی تلاش کے لیے کرتے ہیں۔ یہ ایک طویل سفر کے اختتام یا ایک روشن ضمیر روح کی پرسکون حکمت کی علامت ہو سکتا ہے۔ یہ لفظ جہالت کے ہنگامے اور نامکمل خواہشات کے انتشار کے برعکس ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'سِدھ' اس روح کی سکون کو مجسم کرتا ہے جس نے اپنا حقیقی راستہ پا لیا ہے۔ یہ ایک ایسا لفظ ہے جو تکمیل کی خاموش بازگشت کے ساتھ گونجتا ہے۔