Meaning of

ستم

sitam • सितम

ستم; ظلم; ناانصافی

oppression; cruelty; injustice

अत्याचार; क्रूरता; अन्याय

Arabic

گو ہے وہ ہے وہ رہا رہین ستم ہا روزگار
لیکن تری خیال سے غافل نہیں رہا

33

Download Image

سخن کا خون تمنا کم ہوتا نہیں ہے
وگر
لگ کیا ستم ہوتا نہیں ہے

بھلے جاناں کاٹ دو بازو ہمارے
کا سر ہوتا نہیں ہے

65

Download Image

کیا ستم ہے کہ اب تری صورت
غور کرنے پہ یاد آتی ہے

52

Download Image

ساری دنیا کے غم ہمارے ہیں
اور ستم یہ کہ ہم تمہارے ہیں

49

Download Image

یہ تو بڑھتی ہی چلی جاتی ہے میعاد ستم
زجز حریفان ستم ک
سے کو پکارا جائے

سمے نے ایک ہی نکتہ تو کیا ہے تعلیم
حاکم سمے کو مسند سے اتارا جائے

48

Download Image

رونے کو تو زندگی پڑی ہے
کچھ تری ستم پہ مسکرا لیں

42

Download Image

پوری کائنات ہے وہ ہے وہ ایک قاتل بیماری کی ہوا ہوں گئی
سمے نے کیسا ستم ڈھایا کہ دوریاں ہی دوا ہوں گئیں

40

Download Image

ہر ایک ستم پہ داد دی ہر زخم پہ دعا
ہم نے بھی دشمنوں کو ستایا بے حد دنوں

38

Download Image

چھوڑ کر جانے کا منظر یاد ہے
ہر ستم تیرا ستم
گر یاد ہے

اپنا بچپن بھول بیٹھا ہوں م
گر
اب بھی تیرا رول نمبر یاد ہے

37

Download Image

ہمارے سامنے تیرا جب کسو نے نام لیا
دل اے ستمزدہ کو ہم نے تھام تھام لیا

37

Download Image

گو ہے وہ ہے وہ رہا رہین ستم ہا روزگار
لیکن تری خیال سے غافل نہیں رہا

33

Download Image

سخن کا خون تمنا کم ہوتا نہیں ہے
وگر
لگ کیا ستم ہوتا نہیں ہے

بھلے جاناں کاٹ دو بازو ہمارے
کا سر ہوتا نہیں ہے

65

Download Image

ستم کا لفظ دکھ اور ناانصافی کا بوجھ اٹھائے ہوتا ہے، جو اکثر گہرے جذباتی درد کے احساس کو بیدار کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ مظلوموں کی اذیت اور دل کی خاموش چیخوں کو بیان کرنے کا ایک طاقتور ذریعہ بن جاتا ہے۔

شاعر 'ستم' کا استعمال دھوکہ دہی اور دل شکستگی کے موضوعات کو اجاگر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ اکثر ان اشعار میں ظاہر ہوتا ہے جو قسمت کی سختی یا محبت کی بے رحمی کا ماتم کرتے ہیں۔ یہ امید کے الفاظ کے برعکس، مایوسی کی گہرائی کو اجاگر کرتا ہے۔

شاعری میں 'ستم' انسانی روح کے سب سے تاریک گوشوں کو منعکس کرنے والا آئینہ ہے۔ یہ ہمیں درد برداشت کرنے میں پائی جانے والی قوت کی یاد دلاتا ہے۔