Meaning of

سیہ رات

siyah-raat • सियह-रात

اندھیری رات; کالی رات

dark night; black night

अंधेरी रात; काली रात

Persian

ہے وہ ہے وہ اطراف ہی رہا دشت شناسائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ
کوئی اترا ہی نہیں روح کی گہرائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

کیا ملایا ہے بتا جام پذیرائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ
خوب نشہ ہے تیری حوصلہ افزائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

تیری یادوں کی سوئی پریم کا دھاگا میرا
کام آئی ہیں بے حد زخموں کی تڑ
پائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

ڈ
سے رہی ہے یہ سیہ رات کی سیپی مجھ کو
بھر رہی زہر خموشی رگ تنہائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

سرمہ مکر و فریب آنکھوں ہے وہ ہے وہ جب سے ہے لگا
تب سے ہے خوب اضافہ حد بینائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

فکر و فن رنگ تغزل لگ غزل کی خوشبو
ب
سے لگا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ قافیہ پیمائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

سیکھ پانی سے ہنر کام انی
سے آئےگا
دوڑ کر خود ہی چلا آتا ہے گہرائی ہے وہ ہے وہ

13

Download Image

عید کے روز یہی اپنی دعا ہے رب سے
ملک ہے وہ ہے وہ امن کا الفت کا بسیرہ ہوں جائے

ہر پریشانی سے ہر بے وجہ کو مل جائے نجات
ا
سے سیہ رات کا ب
سے جلد سویرہ ہوں جائے

25

Download Image

ہے وہ ہے وہ اطراف ہی رہا دشت شناسائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ
کوئی اترا ہی نہیں روح کی گہرائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

کیا ملایا ہے بتا جام پذیرائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ
خوب نشہ ہے تیری حوصلہ افزائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

تیری یادوں کی سوئی پریم کا دھاگا میرا
کام آئی ہیں بے حد زخموں کی تڑ
پائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

ڈ
سے رہی ہے یہ سیہ رات کی سیپی مجھ کو
بھر رہی زہر خموشی رگ تنہائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

سرمہ مکر و فریب آنکھوں ہے وہ ہے وہ جب سے ہے لگا
تب سے ہے خوب اضافہ حد بینائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

فکر و فن رنگ تغزل لگ غزل کی خوشبو
ب
سے لگا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ قافیہ پیمائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

سیکھ پانی سے ہنر کام انی
سے آئےگا
دوڑ کر خود ہی چلا آتا ہے گہرائی ہے وہ ہے وہ

13

Download Image

عید کے روز یہی اپنی دعا ہے رب سے
ملک ہے وہ ہے وہ امن کا الفت کا بسیرہ ہوں جائے

ہر پریشانی سے ہر بے وجہ کو مل جائے نجات
ا
سے سیہ رات کا ب
سے جلد سویرہ ہوں جائے

25

Download Image

سیہ رات ایک ایسی رات کی گہرائی اور پراسراریت کو ظاہر کرتا ہے جو روشنی سے محروم ہوتی ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر نامعلوم، چھپے ہوئے خوف یا تنہائی کی گہرائی کی علامت ہوتا ہے۔ یہ تاریکی صرف جسمانی نہیں بلکہ جذباتی بھی ہے، جو خود شناسی کے لمحات اور سایہ کے ذریعے روح کے سفر کو ظاہر کرتی ہے۔

شاعر اکثر 'سیہ رات' کا استعمال تنہائی اور خود شناسی کے موضوعات کو تلاش کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ روح کے خاموش مکالموں کے لیے ایک پس منظر کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ اصطلاح صبح کی امید یا ستاروں کی روشنی کے سکون کے ساتھ متضاد ہو سکتی ہے۔

سیہ رات کی آغوش میں، شاعر روح کے گہرے ترین انعکاسات کے لیے ایک کینوس پاتے ہیں۔