Meaning of

زیب

zeb • ज़ेब

زیور; آرائش; خوبصورتی

adornment; embellishment; beauty

श्रृंगार; अलंकरण; सुंदरता

Persian

پازیب کی آواز ہی اب گونجتی ہے کان ہے وہ ہے وہ ہے وہ
ہوں گی ج
ہاں بھی تو کہی لیکن رہےگی دھیان ہے وہ ہے وہ

2

Download Image

حقیقت مری فکر تو کرتا ہے م
گر پیار نہیں
زبان پازیب ہے وہ ہے وہ گھنگرو تو ہے دکھےگی نہیں

53

Download Image

رقص کرنا ہے تو پھروں ہوش کی پازیب اتار
عالم وجد ہے وہ ہے وہ ہی بے خبری آتی ہے

33

Download Image

کیا واقعی حقیقت تیری پازیب کی خنک تھی
ایسا سکون تو ب
سے بھیگتا کے گانے ہے وہ ہے وہ ہے

30

Download Image

کبھی تو آ جائے کوئی ایک سال میرا
کہ ج
سے ہے وہ ہے وہ بہتر ہوں یہ ملول حال میرا

کہی مصور کو بھول تو نہیں بیٹھا
یہ جو ہے وہم زیبائی و جمال میرا

8

Download Image

بڑی عجیب تمنا ہے مری دل کی دوست
مجھے ہر ایک نظر ہے وہ ہے وہ خراب ہونا ہے

6

Download Image

سارے سر ا
سے کی خوشامد ہے وہ ہے وہ لگے ہیں دیکھیے تو
آج ا
سے نے پیروں ہے وہ ہے وہ پازیب جو پہنی ہوئی ہے

5

Download Image

در بدر کسی جانب روز چل رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ
اک عجیب صورت ہے وہ ہے وہ خود ہی ڈھل رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ

کون جل گیا تو اندر کون مر گیا تو مجھ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ
کس کی موت پر تنہا روز جل رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ

اتنا کہنے پر بھی جب جستجو دل شکستہ ہی نہیں دنیا
بے وجہ ہی خود کو پھروں کیوں بدل رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ

خاک ہوں چکا ہے دل چل رہی مری سانسیں
رفتہ رفتہ ہی خود کے دن نگل رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ

زندگی بھلا اب یہ ک
سے طرح بسر ہوں گی
آج کل غموں سے بھی کب بہل رہا ہوں ہے وہ ہے وہ

4

Download Image

درد گلشن زیبا اور مثال بنو
اک کام کروں جاناں شراب بنو

4

Download Image

ہے وہ ہے وہ غزل کا بدن پازیب ہوں
جب تمہیں پنو پر اتارتا ہوں

3

Download Image

پازیب کی آواز ہی اب گونجتی ہے کان ہے وہ ہے وہ ہے وہ
ہوں گی ج
ہاں بھی تو کہی لیکن رہےگی دھیان ہے وہ ہے وہ

2

Download Image

حقیقت مری فکر تو کرتا ہے م
گر پیار نہیں
زبان پازیب ہے وہ ہے وہ گھنگرو تو ہے دکھےگی نہیں

53

Download Image

’زیب‘ لفظ خوبصورتی اور زیور کی تصور کو ظاہر کرتا ہے، جو اکثر اس نفاست سے منسلک ہوتا ہے جو کسی کی موجودگی کو بڑھاتا ہے۔ شاعری میں، یہ اس لطف و دلکشی کی علامت ہے جو معمولی کو اعلیٰ بناتا ہے، جمالیاتی کشش کا جوہر پکڑتا ہے۔

شاعر اکثر ’زیب‘ کا استعمال فطرت یا محبوب کی خوبصورتی کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسا لفظ ہے جو لمحے کی نفاست، اشارے کی لطف، یا منظر کی دلکشی کو زندہ کرتا ہے۔ یہ کچے اور بغیر آرائش کے برعکس ہے، خوبصورتی کی تبدیلی کی طاقت کو اجاگر کرتا ہے۔

شاعری کے تانے بانے میں، ’زیب‘ وہ خوبصورتی کا دھاگہ ہے جو وجود کے کپڑے میں بُنتا ہے، ہر تہہ میں نفاست کا اضافہ کرتا ہے۔