Meaning of

زیر

zer • ज़ेर

نیچے; تحت; زیر

below; under; beneath

नीचे; अधीन; तले

Arabic

لگ جانے کب سے صحرا تھا مری دل کا جزیرہ
تری ب
سے ایک گل نے کر دیا دل ناشاد اس کا کو

4

Download Image

دور ا
گر رہتے ہیں ماں سے ہم زیر بحث ہوں جاتے ہیں
ایسا خا
لگ ملتا ہے سب کپڑے ڈھیلے ہوں جاتے ہیں

46

Download Image

بھوک ہے تو دل پامال کر روٹی نہیں تو کیا ہوا
آجکل دہلی ہے وہ ہے وہ ہے کاٹو یہ مدعا

31

Download Image

مجھ کو لگ سمجھ آتا ہے کچھ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ پیش ک
ہوں یا زیر ک
ہوں

کیوں شہر میرا تو نے چھوڑا
اب کس کو دیکھ کے شعر ک
ہوں

13

Download Image

زیر سایہ زلف سوچا نہیں
تیری فرقت بھی سہنی پڑےگی ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ

12

Download Image

کھیل شطرنج کے بدلتے ہیں
داو اصلی وزیر چلتے ہیں

6

Download Image

ہاٹ اک روز مری گاؤں کا آ کر دیکھو
ی
ہاں فریزر نہیں مٹی کے گھڑے ملتے ہیں

5

Download Image

الف کو بی زبر کو زیر کہتا ہے
ہر اک ٹٹپنجیا اب شعر کہتا ہے

4

Download Image

اے غم ہجراں خواب و خیال یوں رہ رہ کے جلاؤ لگ مجھے
سمے پہچانی تو بھی آ آ کے مٹکی لگ مجھے

چین سے جینے دے مجھ کو و مری زیر و
مٹ چکی کب کی سنو ایسے قربت لگ مجھے

4

Download Image

زبر کے بعد ہے وہ ہے وہ یہ زیر کہتا ہوں
تمہاری یاد ہے وہ ہے وہ جاں شعر کہتا ہوں

4

Download Image

لگ جانے کب سے صحرا تھا مری دل کا جزیرہ
تری ب
سے ایک گل نے کر دیا دل ناشاد اس کا کو

4

Download Image

دور ا
گر رہتے ہیں ماں سے ہم زیر بحث ہوں جاتے ہیں
ایسا خا
لگ ملتا ہے سب کپڑے ڈھیلے ہوں جاتے ہیں

46

Download Image

زیر نیچے یا تحت ہونے کا احساس دلاتا ہے، اکثر کسی چھپی ہوئی یا بنیادی چیز کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ شاعری میں، یہ سطح کے نیچے کی تہوں، جذبات یا خیالات کی ان دیکھی گہرائیوں کو اجاگر کر سکتا ہے۔

شاعر زیر کا استعمال معنی کی چھپی ہوئی تہوں کو تلاش کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ ان کہی جذبات کی گہرائی یا ان بنیادوں کا اشارہ دے سکتا ہے جن پر نظر آنے والی ساختیں کھڑی ہوتی ہیں۔ زیر اس بات پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے جو نیچے چھپا ہوا ہے۔

زیر ان دیکھی اور ان کہی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ ہمیں سطح سے آگے دیکھنے کی یاد دلاتا ہے، ان گہرائیوں میں جہاں حقیقی سمجھ بوجھ موجود ہے۔