Meaning of

ظلم و ستم

zulm-o-sitam • ज़ुल्म-ओ-सितम

ظلم و ستم; ظلم

oppression and tyranny; cruelty

अत्याचार और ज़ुल्म; क्रूरता

Arabic

کیا یہ بھی کسی جنگ کے اعلان سے کم ہے
ہم سہ کے تری ظلم و ستم گھوم رہے ہیں

0

Download Image

خدا جانے حقیقت ایسے کیسے کیوں یہ مرد پالے ہیں
سیاسی لوگ اپنے دل ہے وہ ہے وہ دہشت گرد پالے ہیں

کیا کرتے ہیں جو ظلم و ستم ہر بےبسیوں پر یوں
حقیقت اپنے آستینوں ہے وہ ہے وہ فقط بے درد پالے ہیں

15

Download Image

زمانے کے ظلم و ستم دیکھ لو
مری زندگی کے بھی غم دیکھ لو

خوشگوار سے بڑھکر رہے ہیں سبھی
کمر تراش کے لگ مانو تو خم دیکھ لو

محبت تو کرنے چلے ہوں م
گر
محبت ہے وہ ہے وہ کیا کیا ہیں غم دیکھ لو

یہ خنجر چلانے سے پہلے سنو
میرا حال تو کم سے کم دیکھ لو

انتقامن اب کے زاہد بھی پینے لگے
لگ مانو تو صاحب فن دیکھ لو

4

Download Image

مجھ کو ظلم و ستم سے ہے مارا گیا تو
پھول کو بچھاؤ سے یوں سنوارا گیا تو

3

Download Image

دیکھ کر ظلم و ستم مظلوم پر
آج پھروں انسانیت شرما گئی

1

Download Image

حضرت دل پہ اتنے ظلم و ستم
حسن داں مت کروں خدا کے لیے

1

Download Image

خود ب خود بجھ جائیں گے ظلم و ستم کے سب دیے
سب جلائیں گر جو انصاف و عدل کا اک دیا

1

Download Image

پڑےگا جور و ظلم و ستم منجھدار ہے وہ ہے وہ گر چاہیے اندھیرا
کسی نے بھی نہیں پایا کبھی اندھیرا کناروں پر

1

Download Image

کیا یہ بھی کسی جنگ کے اعلان سے کم ہے
ہم سہ کے تری ظلم و ستم گھوم رہے ہیں

0

Download Image

خدا جانے حقیقت ایسے کیسے کیوں یہ مرد پالے ہیں
سیاسی لوگ اپنے دل ہے وہ ہے وہ دہشت گرد پالے ہیں

کیا کرتے ہیں جو ظلم و ستم ہر بےبسیوں پر یوں
حقیقت اپنے آستینوں ہے وہ ہے وہ فقط بے درد پالے ہیں

15

Download Image

یہ عبارت ظالمانہ حکمرانی کی سختی اور اس کے نتیجے میں ہونے والے مصائب کو ظاہر کرتی ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر معاشرتی اور ذاتی ناانصافیوں کی ایک طاقتور تنقید کے طور پر کام کرتا ہے۔

شاعر 'ظلم و ستم' کا استعمال مزاحمت اور برداشت کے موضوعات کو اجاگر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ اسے اکثر امید اور استقامت کے ساتھ جوڑا جاتا ہے، جس سے ایک متحرک تناؤ پیدا ہوتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'ظلم و ستم' ظلم کے خلاف ابدی جدوجہد کی بازگشت ہے۔