Meaning of

سوز

Soj • सोज

جلن; جنون; جوش

burning; passion; fervor

जलन; जुनून; उत्साह

Persian

دیو اب اور یہ غزلیں نہیں ہوںگی ہم سے
سوز غم ہے لکھا ایسا جو مٹائے نہ بنے

0

Download Image

دل سوز سے خالی ہے نگہ پاک نہیں ہے
پھروں ا
سے ہے وہ ہے وہ غضب کیا کہ تو بےباک نہیں ہے

45

Download Image

ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہیں سوز ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ساز ہیں ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ نغمہ
ذرا سنبھل کے سر بزم چھیڑنا ہم کو

26

Download Image

مجھ کو خواہش ہے اسی شان کی دیوالی کی
لکشمی دیش ہے وہ ہے وہ الفت کی شب و روز رہے

دیش کو پیار سے محنت سے سنواریں مل کر
اہل بھارت کے دلوں ہے وہ ہے وہ یہ کنول سوز رہے

22

Download Image

دل سوزاں کو بھی مہکا رہے ہیں
ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو خواب تری آ رہے ہیں

تری شیدائی پاگل ہوں چکے ہیں
تری تصویر چومے جا رہے ہیں

8

Download Image

جانتا ہوں تجھے ساحل ہے وہ ہے وہ ہوا عظمت سوز
بال مت کھولنا سیل بلا لا سکتی ہوں

4

Download Image

سوز وفا کے نام سے ارمان تھے بے حد
لیکن دیار اے عشق سے انجان تھے بے حد

لگتا تھا ا
نہیں عشق کی راہیں ہیں منعقد
آ کر کے راہ عشق ہے وہ ہے وہ حیران تھے بے حد

3

Download Image

کبھی تنہائی کوہ و دمن عشق
کبھی سوز و سرور و انجمن عشق

کبھی سرمایہ محراب و منبر
کبھی مولا علی فتح مندی شکن عشق

1

Download Image

دیو اب اور یہ غزلیں نہیں ہوںگی ہم سے
سوز غم ہے لکھا ایسا جو مٹائے نہ بنے

0

Download Image

دل سوز سے خالی ہے نگہ پاک نہیں ہے
پھروں ا
سے ہے وہ ہے وہ غضب کیا کہ تو بےباک نہیں ہے

45

Download Image

اپنے اصل معنی میں، 'سوز' ایک گہری، جلتی ہوئی کیفیت کو بیان کرتا ہے، جو اکثر شدید جذبات یا جنون سے وابستہ ہوتی ہے۔ شاعری میں، یہ لفظ جوش اور آرزو کا جوہر پکڑتا ہے، ایک دل کی تصویر کشی کرتا ہے جو خواہش سے مغلوب ہو چکا ہے۔

شاعر اکثر 'سوز' کا استعمال محبت کی شدت یا جدائی کے درد کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسا لفظ ہے جو عاشق کی اندرونی کشمکش، اس جلتی ہوئی خواہش کو زندہ کرتا ہے جو بجھنے سے انکار کرتی ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'سوز' نامکمل خواہشات کا ایک مینار ہے، دل کی اپنی جذبات کی مسلسل تلاش کا ثبوت ہے۔