Meaning of

دف

daf • दफ़

ڈھولک; موسیقی کا آلہ

frame drum; musical instrument

ढोलक; वाद्य यंत्र

Persian

تجھے خیال نہیں ہے سو ہم بڑھا رہے ہیں
پھروں اک دفع تیری زانیب قدم بڑھا رہے ہیں

بے حد سے آئی تجھے جیتنے کی خواہش ہے وہ ہے وہ ہے وہ
ہم ایک کونے ہے وہ ہے وہ بیٹھے رقم بڑھا رہے ہیں

48

Download Image

راتیں کسی یاد ہے وہ ہے وہ کٹتی ہیں اور دن دفترون کھا جاتا ہے
دل جینے پر مائل ہوتا ہے تو موت کا ڈر کھا جاتا ہے

سچ پوچھو تو برزخ حافی ہے وہ ہے وہ ایسے دوست سے عزیز ہوں
ملتا ہے تو بات نہیں کرتا اور فون پہ سر کھا جاتا ہے

307

Download Image

جو مری ساتھ محبت ہے وہ ہے وہ ہوئی آدمی ایک پتنگے گنگنائے گا
رات ا
سے ڈر ہے وہ ہے وہ گزاری ہم نے کوئی دیکھےگا تو کیا گنگنائے گا

88

Download Image

آج پہلی دفع لگا مجھ کو
حقیقت ذرا بےوفا لگا مجھ کو

ب
سے بنا بات ہی بگڑتا تھا
بے پناہ ہی خفا لگا مجھ کو

81

Download Image

بے پناہ مجھ سے پھروں خفا کیوں ہے
یہ کہانی ہی ہر دفع کیوں ہے

کچھ بھی مجبوری تو نہیں دکھتی
ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا جانوں حقیقت بےوفا کیوں ہے

80

Download Image

سوچیے سو سو دفع رشتہ میرا ا
سے سے
مر گیا تو ہے مارکر مجھ کو میرا قاتل

62

Download Image

تو محبت نہیں سمجھتی ہے
ہم بھی اپنی انا میں جلتے ہیں

اس پتنگے بندشیں زیادہ ہیں
چھوڑ اگلے جنم میں ملتے ہیں

55

Download Image

شاید قضا نے مجھ کو خزا
لگ بنا دیا
ایسا نہیں تو کیوں مجھے دفنا رہے ہیں لوگ

50

Download Image

دفترون ہے وہ ہے وہ طے کیا تھا کہ تارے گنیںگے آج
لیکن ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہنچتے ہی گھر نیند آ گئی

49

Download Image

ہے وہ ہے وہ کیسے مان لوں کہ عشق ب
سے اک بار ہوتا ہے
تجھے جتنی دفع دیکھوں مجھے ہر بار ہوتا ہے

تجھے پانے کی حسرت اور ڈر ناکامیابی کا
انہی دو تین باتوں سے یہ دل دو چار ہوتا ہے

49

Download Image

تجھے خیال نہیں ہے سو ہم بڑھا رہے ہیں
پھروں اک دفع تیری زانیب قدم بڑھا رہے ہیں

بے حد سے آئی تجھے جیتنے کی خواہش ہے وہ ہے وہ ہے وہ
ہم ایک کونے ہے وہ ہے وہ بیٹھے رقم بڑھا رہے ہیں

48

Download Image

راتیں کسی یاد ہے وہ ہے وہ کٹتی ہیں اور دن دفترون کھا جاتا ہے
دل جینے پر مائل ہوتا ہے تو موت کا ڈر کھا جاتا ہے

سچ پوچھو تو برزخ حافی ہے وہ ہے وہ ایسے دوست سے عزیز ہوں
ملتا ہے تو بات نہیں کرتا اور فون پہ سر کھا جاتا ہے

307

Download Image

دف ایک روایتی ڈھولک ہے، جو اکثر تہواروں اور روحانی محفلوں میں بجایا جاتا ہے۔ اس کی تالیں جشن اور اتحاد کا احساس جگاتی ہیں، سننے والوں کے دلوں کی دھڑکنوں کے ساتھ گونجتی ہیں۔ شاعری میں، یہ زندگی کی دھڑکن اور جذبات کی لَے کا استعارہ ہے۔

شاعر اکثر 'دف' کا استعمال جشن کی آواز یا محفل کی دھڑکن کو جگانے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ زندگی کی لَے یا کمیونٹی کی ہم آہنگی کا استعارہ ہو سکتا ہے۔

دف کی لَے زندگی کے مسلسل رقص کی یاد دلاتی ہے، ایک تال جو جوڑتی ہے اور بلند کرتی ہے۔