Meaning of

دوج

dwij • द्विज

دوج; برہمن

twice-born; a Brahmin

द्विज; ब्राह्मण

Sanskrit

اتنی خوبصورت اک دوجے سے کرتے ہیں
ہم دونوں ہے وہ ہے وہ یار محبت ہونی تھی

11

Download Image

چہرہ دھندلا سا تھا اور سنہرے بالیاں تھے
بادل نے کانوں ہے وہ ہے وہ چاند کے ٹکڑے پہنے تھے

اک دوجے کو کھونے سے ہم اتنا ڈرتے تھے
غصہ بھی ہوتے تو باتیں کرتے رہتے تھے

83

Download Image

درد محبت تنہائی ہے لڑکوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ
ک
سے نے افواہ پھیلائی ہے لڑکوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ

اک دوجے سے کٹے کٹے سے رہتے ہیں
کیا کوئی لڑکی آئی ہے لڑکو ہے وہ ہے وہ

63

Download Image

ذرا سی دیر کو سکتے ہے وہ ہے وہ آ گئے تھے ہم
کہ ایک دوجے کے رستے ہے وہ ہے وہ آ گئے تھے ہم

جو اپنا حصہ بھی اوروں ہے وہ ہے وہ بانٹ دیتا ہے
ایک ایسے بے وجہ کے حصے ہے وہ ہے وہ آ گئے تھے ہم

55

Download Image

ہم تحفے ہے وہ ہے وہ گھڑیاں تو دے دیتے ہیں
ایک دوجے کو سمے نہیں دے پاتے ہیں

آنکھیں بلیک اینڈ وائٹ ہیں تو پھروں ان
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ
رنگ برنگے خواب ک
ہاں سے آتے ہیں

54

Download Image

دوجوں کا دکھ سمجھنے کو بے حد ضروری ہے
تھوڑی صحیح بچیں دل ہے وہ ہے وہ اذیت بنی رہے

39

Download Image

مکان تو ہے نہیں جو کھینچ دیں دیوار ا
سے دل ہے وہ ہے وہ ہے وہ
کوئی دوجا نہیں رہ پائے گا اب یار ا
سے دل ہے وہ ہے وہ ہے وہ

ج
ہاں بھر ہے وہ ہے وہ لٹاتے پھروں رہے ہے کم نہیں ہوتا
تمہارے واسطے اتنا رکھا تھا پیار ا
سے دل ہے وہ ہے وہ

38

Download Image

دل کی دیوار پر سوا ا
سے کے
رنگ دوجا کوئی چڑھا ہی نہیں

25

Download Image

دوجا عشق کیا تو یہ معلوم ہوا
پہلے والے ہے وہ ہے وہ بھی غلطی مری تھی

20

Download Image

باپ کے کندھے پہ ہے بیٹے کی میت
ایک میت ڈھو رہی دوجے کی میت

16

Download Image

اتنی خوبصورت اک دوجے سے کرتے ہیں
ہم دونوں ہے وہ ہے وہ یار محبت ہونی تھی

11

Download Image

چہرہ دھندلا سا تھا اور سنہرے بالیاں تھے
بادل نے کانوں ہے وہ ہے وہ چاند کے ٹکڑے پہنے تھے

اک دوجے کو کھونے سے ہم اتنا ڈرتے تھے
غصہ بھی ہوتے تو باتیں کرتے رہتے تھے

83

Download Image

اصل میں، 'دوج' کا مطلب دو بار پیدا ہونے کے تصور سے ہے، جو روحانی پیدائش نو اور علم کا استعارہ ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر پاکیزگی، حکمت اور اعلیٰ علم کی تلاش کو ظاہر کرتا ہے۔

شاعر 'دوج' کا استعمال روحانی بیداری اور علم کی طرف سفر کے موضوعات کو اجاگر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ جہالت اور مادیت کے برعکس ہے، روح کی بلندی کو اجاگر کرتا ہے۔

'دوج' میں، شاعر پیدائش نو اور سچ کی ابدی تلاش کا جوہر پاتے ہیں۔