Meaning of

اہمیت

ehmiyat • एहमियत

اہمیت; قدر

importance; significance

महत्व; अहमियत

Arabic

جیت کی اہمیت وہی جانے
جو کئی بار ہارا ہوتا ہیں

فکر انجام کی نہیں مجھ کو
رہتا ہوکر جو ہونا ہوتا ہیں

2

Download Image

اہمیت اب تیری کالر کے بٹن جتنی ہے
لگ ہوں تو بھی کوئی دقت نہیں ہوں بھی تو بھی

63

Download Image

حقیقت بجھ گیا تو تو چلا ا
سے کی اہمیت کا پتا
کہ ا
سے کی آگ سے کتنے چراغ جلتے تھے

58

Download Image

سخن فہموں کی بستی ہے وہ ہے وہ سخن کی زندگی کم ہے
ج
ہاں شاعر زیادہ ہیں و
ہاں پر شاعری کم ہے

ہے وہ ہے وہ ہے وہ جگنو ہوں اجالے ہے وہ ہے وہ بھلا کیا اہمیت مری
و
ہاں لے جائیے مجھ کو ج
ہاں پر روشنی کم ہے

40

Download Image

ہے وہ ہے وہ اہمیت بھی سمجھتا ہوں قہق
ہوں کی م
گر
مزہ کچھ اپنا ا
پیش ہے ادا
سے ہونے کا

20

Download Image

پاؤں رکھ گئی ہے حقیقت زمین پر
اہمیت بڑھا دی ا
سے نے دھول کی

18

Download Image

پتے پر جلد پہنچے یا کہ کچھ تاخیر سے پہنچے
ہے کتنی اہمیت خط کی یہ نامہ بر نہیں سمجھا

5

Download Image

ہے وہ ہے وہ قید تھا قف
سے ہے وہ ہے وہ اور حقیقت اڑ رہا تھا سامنے
یہ پہلی بار تھا کے پتھ اہمیت ہے وہ ہے وہ تھے نہیں

معاف کر دیا ہے ہم نے سوچ کر کے کچھ م
گر
تری گناہ تو اے یار معذرت ہے وہ ہے وہ تھے نہیں

4

Download Image

نہیں دی اہمیت یوں بھی کسی نے
سبھی کو مفت ہے وہ ہے وہ حاصل ہوئے ہم

3

Download Image

یہ رشتوں کی اہمیت کا اثر یوں ہے زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ
جو اک رشتہ ٹوٹ جائے بکھرتی ہے زندگی بھی

3

Download Image

جیت کی اہمیت وہی جانے
جو کئی بار ہارا ہوتا ہیں

فکر انجام کی نہیں مجھ کو
رہتا ہوکر جو ہونا ہوتا ہیں

2

Download Image

اہمیت اب تیری کالر کے بٹن جتنی ہے
لگ ہوں تو بھی کوئی دقت نہیں ہوں بھی تو بھی

63

Download Image

اہمیت کا لفظ وزن اور قدر کا احساس دلاتا ہے، جو اکثر اہم معاملات سے وابستہ ہوتا ہے۔ شاعری میں، یہ معمولی باتوں سے آگے بڑھ کر جذبات، تعلقات اور وجودی موضوعات کی گہری اہمیت کو چھوتا ہے۔

شاعر 'اہمیت' کا استعمال محبت اور نقصان کی سنگینی کو اجاگر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ اکثر زندگی کے جوہر پر غور کرتے ہوئے اشعار میں ظاہر ہوتا ہے۔ یہ لفظ معمولی پن کے برعکس گہرائی کو نمایاں کرتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'اہمیت' واقعی اہم چیزوں کی یاد دہانی کراتی ہے۔ یہ ہمارے زندگی کے تانے بانے کو بننے والے غیر مرئی دھاگوں پر غور و فکر کی دعوت دیتی ہے۔