Meaning of

فرس

fars • फ़रस

گھوڑا; اسپ

horse; steed

घोड़ा; अश्व

Persian

رن ہے وہ ہے وہ ہمارے حال پہ قاتل بھی روئےگا
آنکھیں بھی خون روئیں گی یہ دل بھی روئےگا

یہ عرش خو شم
سے قمر اور کہکشاں
سارے شجر پرند یہ ساحل بھی روئےگا

1

Download Image

بے فرش و بام سلسلہ کائنات کے
ا
سے بے ستون نصرت ہے وہ ہے وہ تو بھی ہے ہے وہ ہے وہ بھی ہوں

بے سال و سن زمانوں ہے وہ ہے وہ پھیلے ہوئے ہیں ہم
بے رنگ و نسل نام ہے وہ ہے وہ تو بھی ہے ہے وہ ہے وہ بھی ہوں

22

Download Image

یوں پتنگوں کی طرح جو اڑ رہا ہے تو وقار
جب گرے گا خو پہ تب ہوش آئےگا تجھے

6

Download Image

چھوڑ دو یہ آپ کا ظالم طریقہ
ڈھونڈ لاؤ اب کوئی لازم طریقہ

عرض ہیں فرسودہ باتیں ا
سے بر
سے کی
مت بھلاؤ جاناں وہی عازم طریقہ

2

Download Image

یہ عرش و خو تلاشا ہے جب ملی ہوں جاناں
سکون قلب ہوں میرا مری خوشی ہوں جاناں

تمہیں گنوانا قسم سے بڑا خسارہ ہے
متاع جان سنو مری زندگی ہوں جاناں

1

Download Image

لو چاند ہوں گیا تو نمو ماہ خرام کا
اے مومنوں لبا
سے سیاہ زیب تن کروں

فرش عزا بچھا کے عزادانے ہے وہ ہے وہ شجر
اب صبح و شام ذکر غریب الوطن کروں

1

Download Image

من کے گلک ہے وہ ہے وہ بچپن ہے
اور خرچے جیسا جیون ہے

دنیا ہے وہ ہے وہ کوئی فیل ہوا
تو کوئی فرسٹ ڈویژن تربیت ہے

1

Download Image

ہے وہ ہے وہ ٹوٹ کر کچھ ا
سے طرح بکھرا پڑا ہوں فرش پر
چنو فضا ہے وہ ہے وہ شاخ سے پتے بکھرتے ٹوٹ کر

1

Download Image

یہ شجر عرش خو شم
سے و قمر
منتظر ہیں تمہاری آمد کے

1

Download Image

مجھ کو یادوں ہے وہ ہے وہ ہر گھڑی دکھتی
فرش پر لاش اک پڑی دکھتی

آئی
لگ جب بھی دیکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ
حقیقت مری ساتھ ہے وہ ہے وہ کھڑی دکھتی

1

Download Image

رن ہے وہ ہے وہ ہمارے حال پہ قاتل بھی روئےگا
آنکھیں بھی خون روئیں گی یہ دل بھی روئےگا

یہ عرش خو شم
سے قمر اور کہکشاں
سارے شجر پرند یہ ساحل بھی روئےگا

1

Download Image

بے فرش و بام سلسلہ کائنات کے
ا
سے بے ستون نصرت ہے وہ ہے وہ تو بھی ہے ہے وہ ہے وہ بھی ہوں

بے سال و سن زمانوں ہے وہ ہے وہ پھیلے ہوئے ہیں ہم
بے رنگ و نسل نام ہے وہ ہے وہ تو بھی ہے ہے وہ ہے وہ بھی ہوں

22

Download Image

فرس کا لفظ طاقت اور شرافت کی تصاویر کو ابھارتا ہے، جو اکثر گھوڑے کی شاندار موجودگی سے وابستہ ہوتا ہے۔ شاعری میں، یہ آزادی، طاقت اور فطرت کی بے قابو روح کی علامت ہے۔

شاعر 'فرس' کا استعمال قدیم جنگوں کی عظمت یا غیر مہذب مناظر کی جنگلی خوبصورتی کو ظاہر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ اکثر ناقابل تسخیر انسانی روح کے لیے ایک استعارہ کے طور پر کام کرتا ہے۔

کھروں کی گونج میں، 'فرس' تخیل اور تاریخ کے میدانوں میں دوڑتا ہے۔