Meaning of

غم گسار

gam-gusaar • गम़-गुसार

غم گسار; تسلی دینے والا; ہمدرد

comforter; consoler; one who shares sorrow

सांत्वना देने वाला; दुख बांटने वाला; सहानुभूति रखने वाला

Persian

چلو کی پھروں ملیںگے دونوں پہلی بار کی طرح
کبھی ملے تھے دل ج
ہاں پہ غم گسار کی طرح

1

Download Image

بدل گئے مری موسم تو یار اب آئی
غموں نے چاٹ لیا غم گسار اب آئی

41

Download Image

آئی غم گسار اور مجھ سے یوں کی بات
چنو کوئی سوگ ہے وہ ہے وہ کرے سکون کی بات

8

Download Image

کوئی موقع زندگی کا آخری موقع نہیں
ا
سے دودمان تعجیل کیوں دیر آشنا غم گسار کے لیے

8

Download Image

دل خوش گوار بھی ہے ترا بے قرار بھی
کچھ کچھ تو لگ رہا ہے ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ چارہ ساز بھی

نینن انہی کے رہتے ہوں گھر ہے وہ ہے وہ گھسے ہوئے
اوپر سے بن رہے ہوں بڑے ناک دار بھی

کرتا ہوں دو شکار ہے وہ ہے وہ تو ایک تیر سے
فن گیتکار بھی ہے میرا حسن کار بھی

جاناں نے نہیں کہا تھا ج
ہاں چھوڑ دے ابھی
اوپر سے کر رہے ہوں میرا انتظار بھی

جاناں لوگ کہ رہے ہوں بھلا آدمی اسے
مجھ کو نظر سے لگ رہا ہے عیب دار بھی

مجھ پر ہی مری جان کا الزام دھر دیا
اوپر سے بولتے ہوں مجھے غم گسار بھی

نینن نمک لگانا غریبوں کے زخم پر
یہ تیرا کام کاج ہے اور روزگار بھی

3

Download Image

کبھی مری دل سے پوچھو کیا اور چاہتا ہے
وہی غم عشق ہوتا حقیقت غم گسار ہوتا

3

Download Image

ہر کوئی آدمی نہیں ہوتا
آدمی غم گسار ہوتا ہے

2

Download Image

دل اور دل کی بے قراری کے لیے
کوئی نہ آیا غم گساری کے لیے

بس تیرگی تھی اور میں تھا دشت میں
پھروں دل جلایا شب گزاری کے لیے

2

Download Image

کون برباد ہے مری جیسا
درد بھی غم گسار سے ہی ملے

1

Download Image

کیوں ہیں مجھ سے یہ غم گسار خفا
کہ ہے وہ ہے وہ تو یاروں درد لکھتا ہوں

1

Download Image

چلو کی پھروں ملیںگے دونوں پہلی بار کی طرح
کبھی ملے تھے دل ج
ہاں پہ غم گسار کی طرح

1

Download Image

بدل گئے مری موسم تو یار اب آئی
غموں نے چاٹ لیا غم گسار اب آئی

41

Download Image

'غم گسار' بنیادی طور پر کسی ایسے شخص کو ظاہر کرتا ہے جو غم کو بانٹتا ہے یا کم کرتا ہے۔ شاعری میں یہ ہمدردی کے گہرے رشتوں اور مشترکہ غم میں پائی جانے والی تسلی کو ظاہر کرتا ہے۔

شاعر 'غم گسار' کا استعمال ہمدردی اور مشترکہ انسانی تجربے کے موضوعات کو اجاگر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ تنہائی اور جذباتی علیحدگی کے برعکس ہوتا ہے۔

شاعری میں 'غم گسار' مشترکہ تسلی اور سمجھ کا نشان بن جاتا ہے۔