Meaning of

گلا

ghila • ग़िला

شکایت; گلا

complaint; grievance

शिकायत; गिला

Arabic

لو ہمارا جواب لے جاؤ
یہ مہکتا گلاب لے جاؤ

60

Download Image

گلاب خواب دوا زہر جام کیا کیا ہے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ آ گیا تو ہوں بتا انتظام کیا کیا ہے

267

Download Image

کوئی سمندر کوئی ن
گرا ہوتی کوئی دریا ہوتا
ہم جتنے پیاسے تھے ہمارا ایک گلا
سے سے کیا ہوتا

طعنہ دینے سے اور ہم پہ شک کرنے سے بہتر تھا
گلے لگا کے جاناں نے ہجرت کا دکھ باٹ لیا ہوتا

164

Download Image

دن ڈھل گیا تو اور رات گزرنے کی آ
سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ
سورج ن
گرا ہے وہ ہے وہ ڈوب گیا تو ہم گلا
سے ہے وہ ہے وہ

124

Download Image

ہم نے اب تک گال بچا کے رکھے ہیں
کیا جاناں نے بھی گلال بچا کے رکھے ہیں

107

Download Image

تتلی سے دوستی لگ گلابوں کا شوق ہے
مری طرح اسے بھی کتابوں کا شوق ہے

99

Download Image

تیری نگاہ ناز سے چھوٹے ہوئے درخت
مر جائیں کیا کریں بتا سوکھے ہوئے درخت

حیرت ہے پیڑ نیم کے دینے لگے ہیں آم
پگلا گئے ہیں آپ کے چو گرد امیر
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوئے درخت

96

Download Image

کوئی سمندر کوئی ن
گرا ہوتی کوئی دریا ہوتا
ہم جتنے پیاسے تھے ہمارا ایک گلا
سے سے کیا ہوتا

85

Download Image

نئی فصلوں کو یہ کچھ اور سے کچھ اور کرتے ہیں
گلابوں کی جو خوشبو ڈھونڈھتے ہیں رات رانی ہے وہ ہے وہ

83

Download Image

بھری بہار ہے وہ ہے وہ اک شاخ پر کھلا ہے گلاب
کہ چنو تو نے ہتھیلی پہ گال رکھا ہے

79

Download Image

لو ہمارا جواب لے جاؤ
یہ مہکتا گلاب لے جاؤ

60

Download Image

گلاب خواب دوا زہر جام کیا کیا ہے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ آ گیا تو ہوں بتا انتظام کیا کیا ہے

267

Download Image

گلا کا لفظ ان کہی شکایات اور خاموش غموں کا وزن رکھتا ہے۔ شاعری میں یہ اکثر محبت اور مایوسی کے درمیان نازک توازن کو ظاہر کرتا ہے، جہاں دل ان کہے دکھوں کو تھامے رکھتا ہے۔

شاعر 'گلا' کا استعمال ان کہی شکایات کے لطیف درد کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ اسے اکثر کھلے ماتم کے مقابل رکھا جاتا ہے، جو خاموش تکلیف کی گہرائی کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ لفظ ایک نامکمل تڑپ اور غیر حل شدہ جذبات کا احساس دلاتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'گلا' دل کے ان کہے الفاظ کی خاموش مگر گہری گونج کو سموئے ہوئے ہے۔