Meaning of

جنوں

jinno • जिन्नों

جن; مافوق الفطرت مخلوق

genies; supernatural beings

जिन्न; अलौकिक प्राणी

Arabic

ہر ایک سمت ی
ہاں وحشتوں کا مسکن ہے
جنوں کے واسطے صحرا و آشیا
لگ کیا

30

Download Image

تیری گلی کو چھوڑ کے پاگل نہیں گیا تو
رسی تو جل گئی ہے م
گر بل نہیں گیا تو

مجنوں کی طرح چھوڑا نہیں ہے وہ ہے وہ نے شہر کو
زبان ہے وہ ہے وہ ہجر کاٹنے جنگل نہیں گیا تو

72

Download Image

مری عقل و ہوش کی سب حالتیں
جاناں نے سانچے ہے وہ ہے وہ جنوں کے ڈھال دی

کر لیا تھا ہے وہ ہے وہ نے عہد ترک عشق
جاناں نے پھروں با
نہیں گلے ہے وہ ہے وہ ڈال دی

60

Download Image

عشق کی اک رنگین صدا پر برسے رنگ
رنگ ہوں مجنوں اور لیلیٰ پر برسے رنگ

47

Download Image

مری جنوں کا نتیجہ ضرور نکلےگا
اسی سیاہ سمندر سے نور نکلےگا

43

Download Image

کرے جو قید جنوں کو حقیقت جال مت دینا
ہوں ج
سے ہے وہ ہے وہ ہوش اسے ایسا حال مت دینا

جو مجھ سے ملنے کا جاناں کو کبھی خیال آئی
تو ا
سے خیال کو جاناں کل پہ ٹال مت دینا

39

Download Image

اے مری ذات کے سکون آ جا
تھم لگ جائے کہی جنوں آ جا

ا
سے سے پہلے کہ ہے وہ ہے وہ اذیت ہے وہ ہے وہ ہے وہ
اپنی آنکھوں کو نوچ لوں آ جا

38

Download Image

دشت چھوڑے ہوئے اب تو عرصہ ہوا
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں مجنوں م
گر نام بدلا ہوا

مجھ کو عورت کے دکھ بھی پتا ہیں کہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ
ایک لڑکا ہوں بیوہ کا پالا ہوا

35

Download Image

سیاہ رات کی سرحد کے پار لے گیا تو ہے
عجیب خواب تھا آنکھیں اتار لے گیا تو ہے

ہے اب جو خلق ہے وہ ہے وہ مجنوں کے نام سے مشہور
حقیقت مری ذات سے وحشت ادھار لے گیا تو ہے

33

Download Image

اے عشق جنوں پیشہ ہاں عشق جنوں پیشہ
آج ایک ستم
گر کو ہن
سے ہن
سے کے رولانا ہے

32

Download Image

ہر ایک سمت ی
ہاں وحشتوں کا مسکن ہے
جنوں کے واسطے صحرا و آشیا
لگ کیا

30

Download Image

تیری گلی کو چھوڑ کے پاگل نہیں گیا تو
رسی تو جل گئی ہے م
گر بل نہیں گیا تو

مجنوں کی طرح چھوڑا نہیں ہے وہ ہے وہ نے شہر کو
زبان ہے وہ ہے وہ ہجر کاٹنے جنگل نہیں گیا تو

72

Download Image

ادب میں، 'جن' پراسرار اور طاقتور مخلوقات کی تصاویر پیش کرتا ہے جو انسانی سمجھ سے پرے ایک دنیا میں رہتے ہیں۔ وہ نامعلوم اور جادوئی کی علامت ہیں، جو اکثر ہماری زندگیوں کو تشکیل دینے والی غیر مرئی قوتوں کے استعارے کے طور پر کام کرتے ہیں۔

شاعر 'جن' کا استعمال اسرار اور مافوق الفطرت کی موضوعات کی تلاش کے لیے کرتے ہیں۔ انہیں خیرخواہ اور بدخواہ دونوں کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جو غیر مرئی دنیا کی دوہری فطرت کی عکاسی کرتا ہے۔

شاعرانہ علامتوں کے طور پر جن ہمیں حقیقت کے پردے کے پیچھے چھپے رازوں پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ وہ ہمیں سائے میں موجود جادو کی یاد دلاتے ہیں۔