Meaning of

خاک

khaak • ख़ाक

خاک; راکھ; بے وقعتی

dust; ashes; insignificance

धूल; राख; महत्वहीनता

Arabic

وطن کی خاک ذرا ایڑیاں رگڑنے دے
مجھے یقین ہے پانی یہیں سے نکلےگا

33

Download Image

ک
ہاں تو خاک اڑاتا تھا مسکراتا تھا
مجھ ایسے بے وجہ کو بھی کیا سے کیا بنایا گیا تو

53

Download Image

یہ بات ابھی سب کو سمجھ آئی نہیں ہے
دیوا
لگ ہے دیوا
لگ تمنا ئی نہیں ہے

دل میرا دکھا کر یہ مجھے تیرا منانا
مرہم ہے فقط زخم کی بھر
پائی نہیں ہے

51

Download Image

صدائیں دیتے ہوئے اور خاک اڑاتے ہوئے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے آپ سے گزرا ہوں تجھ تک آتے ہوئے

47

Download Image

عمر کا ایک اور سال گیا تو
سمے پھروں ہم پہ خاک ڈال گیا تو

45

Download Image

زندگی زندہ دلی کا ہے نام
مردہ دل خاک زیا کرتے ہیں

45

Download Image

مجھے آنکھیں دکھا کر بولتی ہے چپ رہو بھیا
بہن چھوٹی بھلے ہوں بات حقیقت اماں سی کرتی ہے

44

Download Image

خاک کو خاک سے ملنے نہیں دیتی دنیا
مر بھی جائیں تو کفن بیچ ہے وہ ہے وہ آ جاتا ہے

39

Download Image

ہم جانتے تو عشق لگ کرتے کسو کے ساتھ
لے جاتے دل کو خاک ہے وہ ہے وہ ا
سے آرزو کے ساتھ

38

Download Image

ایک بر
سے اور بیت گیا تو
کب تک خاک اڑانی ہے

35

Download Image

وطن کی خاک ذرا ایڑیاں رگڑنے دے
مجھے یقین ہے پانی یہیں سے نکلےگا

33

Download Image

ک
ہاں تو خاک اڑاتا تھا مسکراتا تھا
مجھ ایسے بے وجہ کو بھی کیا سے کیا بنایا گیا تو

53

Download Image

خاک اپنے لغوی معنی میں دھول یا راکھ کی علامت ہے، جو کبھی تھا اس کا باقیات ہے۔ شاعری میں یہ موت، عاجزی اور زندگی کی عارضی نوعیت کے موضوعات کو اجاگر کرتا ہے۔

شاعر خاک کا استعمال وجود کی عارضی نوعیت پر غور کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ یہ زندگی کے عارضی لمحات اور کائنات میں ہماری جگہ کو سمجھنے کے ساتھ آنے والی عاجزی کی یاد دہانی کراتا ہے۔

خاک ہمیں ہماری عاجزانہ شروعات اور زمین میں ناگزیر واپسی کی یاد دلاتا ہے۔