Meaning of

مہ

mah • मह

چاند; مہینہ

moon; month

चाँद; महीना

Persian

اب ان جلے ہوئے جسموں پہ خود ہی سایہ کروں
تمہیں کہا تھا بتا کر قریب آیا کروں

ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا
سے کے بعد مہینوں ادا
سے رہتا ہوں
مزاق ہے وہ ہے وہ بھی مجھے ہاتھ مت لگایا کروں

295

Download Image

تمہیں حسن پر دسترسی ہے محبت وہبت بڑا جانتے ہوں
تو پھروں یہ بتاؤ کہ جاناں ا
سے کی آنکھوں کے بارے ہے وہ ہے وہ کیا جانتے ہوں

یہ جغرافیہ فلسفہ سائیکالوجی سائن
سے ریاضی وغیرہ
یہ سب جاننا بھی اہم ہے م
گر ا
سے کے گھر کا پتا جانتے ہوں

1283

Download Image

بچھڑ کر ا
سے کا دل لگ بھی گیا تو تو کیا لگے گا
حقیقت تھک جائےگا اور مری گلے سے آ لگے گا

ہے وہ ہے وہ ہے وہ مشکل ہے وہ ہے وہ تمہارے کام آؤں یا نا آؤں
مجھے آواز دے لینا تمہیں اچھا لگے گا

753

Download Image

کوئی دقت نہیں ہے گر تمہیں الجھا سا لگتا ہوں
ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہلی مرتبہ ملنے ہے وہ ہے وہ سب کو ایسا لگتا ہوں

ضروری تو نہیں ہم ساتھ ہیں تو کوئی چکر ہوں
حقیقت مری دوست ہے اور ہے وہ ہے وہ اسے ب
سے اچھا لگتا ہوں

523

Download Image

جو خاندانی رئی
سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا
تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے

371

Download Image

تمہیں ہم بھی ستانے پر اتر آئیں تو کیا ہوگا
تمہارا دل دکھانے پر اتر آئیں تو کیا ہوگا

ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ بدنام کرتے پھروں رہے ہوں اپنی محفل ہے وہ ہے وہ ہے وہ
ا
گر ہم سچ بتانے پر اتر آئیں تو کیا ہوگا

341

Download Image

تو کسی اور ہی دنیا ہے وہ ہے وہ ملی تھی مجھ سے
تو کسی اور ہی موسم کی مہک لائی تھی

ڈر رہا تھا کہ کہی زخم لگ بھر جائیں مری
اور تو مٹھیاں بھر بھر کے نمک لائی تھی

332

Download Image

کیا غلط فہمی ہے وہ ہے وہ رہ جانے کا صدمہ کچھ نہیں
حقیقت مجھے سمجھا تو سکتا تھا کہ ایسا کچھ نہیں
عشق سے بچ کر بھی بندہ کچھ نہیں ہوتا مگر
یہ بھی سچ ہے عشق ہے وہ ہے وہ بندے کا اختیار کچھ نہیں

307

Download Image

ہوا ہی کیا جو حقیقت ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ملا نہیں
بدن ہی صرف ایک راستہ نہیں

یہ پہلا عشق ہے تمہارا سوچ لو
مری لیے یہ راستہ نیا نہیں

300

Download Image

گھر ہے وہ ہے وہ بھی دل نہیں لگ رہا کام پر بھی نہیں جا رہا
جانے کیا خوف ہے جو تجھے چوم کر بھی نہیں جا رہا

رات کے تین بجنے کو ہے یار یہ کیسا محبوب ہے
جو گلے بھی نہیں لگ رہا اور گھر بھی نہیں جا رہا

296

Download Image

اب ان جلے ہوئے جسموں پہ خود ہی سایہ کروں
تمہیں کہا تھا بتا کر قریب آیا کروں

ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا
سے کے بعد مہینوں ادا
سے رہتا ہوں
مزاق ہے وہ ہے وہ بھی مجھے ہاتھ مت لگایا کروں

295

Download Image

تمہیں حسن پر دسترسی ہے محبت وہبت بڑا جانتے ہوں
تو پھروں یہ بتاؤ کہ جاناں ا
سے کی آنکھوں کے بارے ہے وہ ہے وہ کیا جانتے ہوں

یہ جغرافیہ فلسفہ سائیکالوجی سائن
سے ریاضی وغیرہ
یہ سب جاننا بھی اہم ہے م
گر ا
سے کے گھر کا پتا جانتے ہوں

1283

Download Image

مہ چاند کی پرسکون اور روشن خوبصورتی کو بیدار کرتا ہے، ایک آسمانی جسم جس نے صدیوں سے شاعروں کو متاثر کیا ہے۔ یہ اکثر پاکیزگی، سکون اور وقت کے بہاؤ سے منسلک ہوتا ہے۔ شاعری میں، چاند ناقابل حصول خوبصورتی اور ابدی چکروں کی علامت بن جاتا ہے۔

شاعر 'مہ' کا استعمال رات اور راز کی تصویر کو بیدار کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ یہ محبوب کے چہرے، وقت کے بہاؤ، یا فطرت کے چکروں کی علامت ہو سکتا ہے۔ چاند کے مراحل اکثر نظم کے اندر جذباتی مد و جزر کا عکس ہوتے ہیں۔

شاعری میں مہ ایک لازوال الہام ہے، جو کائنات کی خوبصورتی اور راز کو منعکس کرتا ہے۔ یہ ہمیں زندگی کے چکروں اور وقت کے بہاؤ پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔