Meaning of

مجنوں

majnu • मजनू

محبت کرنے والا; دیوانہ; جذباتی مداح

lover; madman; passionate admirer

प्रेमी; पागल; भावुक प्रशंसक

Arabic

शाहजहाँ जब याद में खो कर ताजमहल बनवाएँगे
मजनूँ जी जब पागल होकर लैला री चिल्लाएँगे

हम तो कायर प्रेमी हम
में क्या कोई सामर्थ्य मगर
जादूनगरी से हम कोई जादूगर ले आएँगे

12

Download Image

تیری گلی کو چھوڑ کے پاگل نہیں گیا تو
رسی تو جل گئی ہے م
گر بل نہیں گیا تو

مجنوں کی طرح چھوڑا نہیں ہے وہ ہے وہ نے شہر کو
زبان ہے وہ ہے وہ ہجر کاٹنے جنگل نہیں گیا تو

72

Download Image

عشق کی اک رنگین صدا پر برسے رنگ
رنگ ہوں مجنوں اور لیلیٰ پر برسے رنگ

47

Download Image

دشت چھوڑے ہوئے اب تو عرصہ ہوا
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں مجنوں م
گر نام بدلا ہوا

مجھ کو عورت کے دکھ بھی پتا ہیں کہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ
ایک لڑکا ہوں بیوہ کا پالا ہوا

35

Download Image

سیاہ رات کی سرحد کے پار لے گیا تو ہے
عجیب خواب تھا آنکھیں اتار لے گیا تو ہے

ہے اب جو خلق ہے وہ ہے وہ مجنوں کے نام سے مشہور
حقیقت مری ذات سے وحشت ادھار لے گیا تو ہے

33

Download Image

حقیقت چاہے مجنوں ہوں فرہاد ہوں کہ رانجھے ہوں
ہر ایک بے وجہ میرا ہم سبق نکلتا ہے

29

Download Image

اگرچہ عشق ہے وہ ہے وہ مجنوں بڑے بدنام ہوتے ہیں
اگرچہ قی
سے چنو عاشقوں کے نام ہوتے ہیں

بھٹک سکتی نہیں جنگل ہے وہ ہے وہ لیلیٰ چاہ کر کے بھی
اجی لیلیٰ کو گھر ہے وہ ہے وہ دوسرے بھی کام ہوتے ہیں

26

Download Image

دل سہمےگا دم نکلےگا گھبراؤگے
تنہائی ہے وہ ہے وہ دیا بجھاکر رہ پاؤگے

ج
سے کے پیچھے بھاگ رہے ہوں پاگل مجنوں
اس کا کا کو پاکر گلے لگا کر رک جاؤگے

22

Download Image

نہیں مجنوں سے دل قوی لیکن
یار ا
سے نا توان کے ہم بھی ہیں

21

Download Image

کہ کے مجنوں مجھے ی
ہاں جانم
سر نہیں پھوڑتا کوئی میرا

ا
سے زمانے ہے وہ ہے وہ صرف تری سوا
دل نہیں توڑتا کوئی میرا

13

Download Image

शाहजहाँ जब याद में खो कर ताजमहल बनवाएँगे
मजनूँ जी जब पागल होकर लैला री चिल्लाएँगे

हम तो कायर प्रेमी हम
में क्या कोई सामर्थ्य मगर
जादूनगरी से हम कोई जादूगर ले आएँगे

12

Download Image

تیری گلی کو چھوڑ کے پاگل نہیں گیا تو
رسی تو جل گئی ہے م
گر بل نہیں گیا تو

مجنوں کی طرح چھوڑا نہیں ہے وہ ہے وہ نے شہر کو
زبان ہے وہ ہے وہ ہجر کاٹنے جنگل نہیں گیا تو

72

Download Image

مجنوں غیر متزلزل محبت اور عقیدت کی علامت ہے، اکثر دیوانگی کی حد تک۔ شاعری میں، یہ ایک ایسے عاشق کی تصویر پیش کرتا ہے جو اتنی شدت سے محبت میں مبتلا ہوتا ہے کہ دنیا دھندلا جاتی ہے۔ لفظ کا اصل مفہوم ایک گہرے، تقریباً صوفیانہ تعلق کو ظاہر کرتا ہے، جو عقل اور معاشرتی اصولوں سے بالاتر ہے۔

شاعر اکثر مجنوں کا استعمال محبت کے لئے آخری قربانی کو ظاہر کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ یہ زیادہ عقلی یا محتاط محبت کے اظہار کے برعکس ہے۔ مجنوں کا استعمال جدائی، فراق اور دنیاوی معاملات پر محبت کی برتری کے موضوعات کو دریافت کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔

مجنوں محبت اور عقل کے درمیان ابدی جدوجہد کی علامت ہے۔ اپنی اصل میں، یہ جذبے کی طاقت کا ثبوت ہے۔