Meaning of

نقل

naql • नक़्ल

نقل; نقل و حرکت; نقل و حمل

imitation; copy; replication

नकल; प्रतिलिपि; अनुकरण

Arabic

شہید اعظم بھگت سنگھ
آنکھوں ہے وہ ہے وہ حقیقت آنسو نہیں

کچھ خواب سنجویا کرتا تھا
وطن کی آزادی کے خاطر

خونی آنسو رویا کرتا تھا
آزادی کا دیوانہ تھا حقیقت

رگوں ہے وہ ہے وہ ابال خاندانی تھا
جس نے سب کچھ لٹا دیا اپنا

حقیقت ویر ہندیوں بلیدانی تھا
انگاروں پر چل کر جس نے

ایک نئی راہ بنائی تھی
اس کا کا متوالے شعر نے قسم

آزادی کی کھائی تھی
چاہے عمر کم رہی ہوں لیکن

حقیقت ایک لمبی کہانی تھا
جس نے سب کچھ لٹا دیا اپنا

حقیقت ویر ہندیوں بلیدانی تھا
جس کے دل ہے وہ ہے وہ صرف اور صرف

انقلاب کی آگ تھی
آنکھوں ہے وہ ہے وہ تھی جلتی جوالا

لباس جس کا تیاگ تھی
ہر دل ہے وہ ہے وہ نشان چھوڑ گیا تو حقیقت

بھارت ماں کی نشانی تھا
جس نے سب کچھ لٹا دیا اپنا

حقیقت ویر ہندیوں بلیدانی تھا
جب تک دھرتی امبر ہوں گے

مٹ نہ سکےگا نام تمہارا
بھارت کا ہر بچہ بچہ

یاد رکھے گا کام تمہارا
سمندر سے بھی گہرا تھا جو

خود ہے وہ ہے وہ ہی ایک روانی تھا
جس نے سب کچھ لٹا دیا اپنا

حقیقت و

2

Download Image

کوئی تو سود چکائے کوئی تو ذمہ لے
ا
سے انقلاب کا جو آج تک ادھار سا ہے

31

Download Image

بے حد برباد ہیں لیکن صدائے انقلاب آئی
وہیں سے حقیقت پکار اٹھےگا جو ذرہ ج
ہاں ہوگا

27

Download Image

شراب کھینچی ہے سب نے غریب کے خوں سے
تو اب امیر کے خوں سے شراب پیدا کر

تو انقلاب کی آمد کا انتظار لگ کر
جو ہوں سکے تو ابھی انقلاب پیدا کر

26

Download Image

دیکھ رفتار انقلاب فراق
کتنی آہستہ اور کتنی تیز

25

Download Image

انقلاب آئےگا رفتار سے مایو
سے لگ ہوں
بے حد آہستہ نہیں ہے جو بے حد تیز نہیں

17

Download Image

نقل کیے تو سمے ہے وہ ہے وہ مارے جاؤگے
سب کو اپنی فطرت زندہ رکھتی ہے

9

Download Image

جب تک کہ آدمی کو سکون کی تلاش ہے
سو انقلاب آئیں گے اک انقلاب کیا

4

Download Image

اک انقلاب نیا آج ہوں گیا تو ہے کیا
مجھے زمانے نے خود ہی بدل دیا ہے کیا

2

Download Image

سبھی کی ماننے سے گھر کا سب کچھ ٹوٹ جاتا ہے
محبت ہے وہ ہے وہ نقل کرنے سے پیپر چھوٹ جاتا ہے

2

Download Image

شہید اعظم بھگت سنگھ
آنکھوں ہے وہ ہے وہ حقیقت آنسو نہیں

کچھ خواب سنجویا کرتا تھا
وطن کی آزادی کے خاطر

خونی آنسو رویا کرتا تھا
آزادی کا دیوانہ تھا حقیقت

رگوں ہے وہ ہے وہ ابال خاندانی تھا
جس نے سب کچھ لٹا دیا اپنا

حقیقت ویر ہندیوں بلیدانی تھا
انگاروں پر چل کر جس نے

ایک نئی راہ بنائی تھی
اس کا کا متوالے شعر نے قسم

آزادی کی کھائی تھی
چاہے عمر کم رہی ہوں لیکن

حقیقت ایک لمبی کہانی تھا
جس نے سب کچھ لٹا دیا اپنا

حقیقت ویر ہندیوں بلیدانی تھا
جس کے دل ہے وہ ہے وہ صرف اور صرف

انقلاب کی آگ تھی
آنکھوں ہے وہ ہے وہ تھی جلتی جوالا

لباس جس کا تیاگ تھی
ہر دل ہے وہ ہے وہ نشان چھوڑ گیا تو حقیقت

بھارت ماں کی نشانی تھا
جس نے سب کچھ لٹا دیا اپنا

حقیقت ویر ہندیوں بلیدانی تھا
جب تک دھرتی امبر ہوں گے

مٹ نہ سکےگا نام تمہارا
بھارت کا ہر بچہ بچہ

یاد رکھے گا کام تمہارا
سمندر سے بھی گہرا تھا جو

خود ہے وہ ہے وہ ہی ایک روانی تھا
جس نے سب کچھ لٹا دیا اپنا

حقیقت و

2

Download Image

کوئی تو سود چکائے کوئی تو ذمہ لے
ا
سے انقلاب کا جو آج تک ادھار سا ہے

31

Download Image

اپنے اصل معنی میں، 'نقل' کسی چیز کی نقل یا تقلید کرنے کے عمل کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ لفظ اکثر ایک گہری معنی اختیار کرتا ہے، جو انسانی رجحان کو جذبات، رویوں، یا حتیٰ کہ تقدیر کی نقل کرنے کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ زندگی کو نقلوں کی ایک سلسلہ کے طور پر پیش کرتا ہے، جہاں اصلیت کی تلاش ہوتی ہے، لیکن وہ نایاب ہوتی ہے۔

شاعر 'نقل' کا استعمال شناخت اور اصلیت کے موضوعات کی تلاش کے لئے کرتے ہیں۔ یہ اصلیت اور تقلید کے درمیان جدوجہد کو ظاہر کر سکتا ہے۔ یہ زندگی کی چکرواتی نوعیت کی علامت بھی ہو سکتا ہے، جہاں تجربات دہرائے جاتے ہیں اور گونجتے ہیں۔

'نقل' ہمیں تقلید اور اصلیت کے رقص میں اس نازک توازن کی یاد دلاتا ہے، جو ادھار لیا گیا ہے اور جو واقعی ہمارا ہے۔