Meaning of

نسبت

nisbat • निस्बत

تعلق; ربط; قربت

relation; connection; affinity

संबंध; जुड़ाव; निकटता

Arabic

निस्बत-ए-आल-ए-नबी दिल में बसाए रखिए
अपने किरदार में सौ चाँद लगाए रखिए

कोई ख़ाली नहीं जाता कभी इस दर से 'समीर'
बज़्म-ए-शब्बीर को ता-उम्र सजाए रखिए

1

Download Image

ک
ہاں پہ مسکرانا ہے ک
ہاں پہ خوشی لانے ہیں
ہمارے ہاتھ سے یہ بھی سہولت جا رہی ہے کیا

یہ خوشیاں کر رہی ہیں گھر مری دل ہے وہ ہے وہ مری اندر
اداسی سے محبت اور نسبت جا رہی ہے کیا

5

Download Image

ہر ایک لفظ ہے وہ ہے وہ جادو ہے تیری نسبت سے
یہی خیال و خواب ہے تجھے چاہتے ہیں شدت سے

3

Download Image

سبھی نسبتیں سبھی رنگیں یہ دھری کی ساری دھری رہیں
تو نہیں تھا جب تو ی
ہاں کوئی لگ قرار دل کو دلا سکا

3

Download Image

مری تو ذہن و دل کو ب
سے یہی غم کھا رہا ہے
کوئی مجھ سے بھی زیادہ پا
سے تری آ رہا ہے

کچھ ا
سے درجہ تجھے نزدیک سے جانا ہے ہے وہ ہے وہ نے
کہ اب جھگڑتا تیری نسبت سے دل اکتا رہا ہے

2

Download Image

دیا بجھاتے ہوئے نسبت الفت سے اسے دیکھا
بنی نہیں کبھی پھروں مری روشنی کے ساتھ

2

Download Image

باہم کیے نہ جو یہی ڈھال بن گئے
آئی سمجھ ہے وہ ہے وہ ٹکڑوں کی قوت شکستہ دل

یہ اور بات اس کا نے کیا قتل عہد کا
یہ اور بات زندہ تھی نسبت شکستہ دل

1

Download Image

جو مر جائیں اسے پھروں سے جگانے سے بھی کیا ہوگا
ہے نسبت روح کا تن کو جلانے سے بھی کیا ہوگا

1

Download Image

دیکھا ہے عشق ہے وہ ہے وہ نسبت تھی جنہیں روح سے ہی
بس وہی لوگ ملے حسن کی ٹھوکر ہے وہ ہے وہ پڑے

1

Download Image

کیا اب یہی ہے سچ کہ محبت نہیں رہی
زار یہی کے جاناں کو بھی حسرت نہیں رہی

کل رات جاناں نے ہم کو نکالا جو بزم سے
یاروں ہے وہ ہے وہ بات کیا رہے عزت نہیں رہی

ج
سے ج
سے بھی کوچے ہے وہ ہے وہ گئے کھائے ہیں زخم ہی
اب اور دل لگانے کی حسرت نہیں رہی

تنہائی بھی ہے درد بھی ہے تیرا غم بھی ہے
اب مری کمرے ہے وہ ہے وہ کوئی خلوت نہیں رہی

اب تو ستم یہ ہے کے ستم
گر نے کہ دیا
اب اور ستم کو تیری ضرورت نہیں رہی

ہم ج
سے کے پہلو سے چلے آئی ہیں دشت ہے وہ ہے وہ ہے وہ
حقیقت در نہیں رہا کہ حقیقت نسبت نہیں رہی

بازار عشق ہے وہ ہے وہ بھی پکارے گئے م
گر
حقیقت دن نہیں رہے کے حقیقت قیمت نہیں رہی

1

Download Image

निस्बत-ए-आल-ए-नबी दिल में बसाए रखिए
अपने किरदार में सौ चाँद लगाए रखिए

कोई ख़ाली नहीं जाता कभी इस दर से 'समीर'
बज़्म-ए-शब्बीर को ता-उम्र सजाए रखिए

1

Download Image

ک
ہاں پہ مسکرانا ہے ک
ہاں پہ خوشی لانے ہیں
ہمارے ہاتھ سے یہ بھی سہولت جا رہی ہے کیا

یہ خوشیاں کر رہی ہیں گھر مری دل ہے وہ ہے وہ مری اندر
اداسی سے محبت اور نسبت جا رہی ہے کیا

5

Download Image

اپنے اصل معنی میں، 'نسبت' ایک بندھن یا تعلق کو ظاہر کرتا ہے، جو اکثر خاندانی یا روحانی ہوتا ہے۔ شاعری نے اس لفظ کو روحوں، خیالات اور لمحات کو جوڑنے والے غیر مرئی دھاگوں کی تلاش کے لیے اپنایا ہے، اسے تقدیر اور گہری قربت کے احساس سے بھر دیا ہے۔

شاعر اکثر 'نسبت' کا استعمال عشاق کے درمیان غیر مرئی بندھنوں، سالک اور الٰہی کے درمیان روحانی تعلق، یا دوستوں کے درمیان غیر کہی گئی سمجھ کو ظاہر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ زیادہ ٹھوس تعلقات کے برعکس ہے، سچے بندھنوں کی غیر مرئی نوعیت کو اجاگر کرتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'نسبت' تقدیر کی سرگوشی بن جاتی ہے، ہمارے زندگیوں کو شکل دینے والی غیر مرئی قوتوں کی ایک نرم یاد دہانی۔