Meaning of

نشا

nisha • निशा

رات; اندھیرا; راز

night; darkness; mystery

रात; अंधकार; रहस्य

Sanskrit

آج ہے ان کو آنا مزہ آئےگا
پھروں جلےگا زما
لگ مزہ آئےگا

تیر ان کی نظر کے چلیں گے کئی
دل بنےگا نشا
لگ مزہ آئےگا

44

Download Image

سب پرندوں سے پیار لوں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ
پیڑ کا روپ دھار لوں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ

تو نشانے پہ آ بھی جائے ا
گر
کون سا تیر مار لوں گا ہے وہ ہے وہ

192

Download Image

زندگی بھر کے لیے دل پہ نشانی پڑ جائے
بات ایسی لگ لکھو لکھ کے مٹانی پڑ جائے

101

Download Image

ا
سے نے دیکھا مجھ کو تو کنڈی لگانی چھوڑ دی
پھروں مری ہونٹوں پہ اک آدھی کہانی چھوڑ دی

ہے وہ ہے وہ ہے وہ چھپائے پھروں رہا تھا عشق اپنے گاؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ
اور پھروں ظالم نے گردن پہ نشانی چھوڑ دی

67

Download Image

رکھتے ہیں موبائل ہے وہ ہے وہ محبت کی نشانی
اب پھول کتابوں ہے وہ ہے وہ چھپایا نہیں کرتے

56

Download Image

حقیقت آدمی نہیں ہے مکمل نقص ہے
ماتھے پہ ا
سے کے چوٹ کا گہرا نشان ہے

حقیقت کر رہے ہیں عشق پہ سنجیدہ گفتگو
ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا بتاؤں میرا کہی اور دھیان ہے

51

Download Image

شکاری سے بچنے ہے وہ ہے وہ کیسا غصہ
نشانے پہ رہنا بڑی بات ہے

50

Download Image

ہے وہ ہے وہ اپنے بعد بے حد یاد آیا کرتا ہوں
جاناں اپنے پا
سے لگ رکھنا کوئی نشانی مری

49

Download Image

چند مصروف نشاط کی چن کر مدتوں محو یا
سے رہتا ہوں
تیرا ملنا خوشی کی بات صحیح تجھ سے مل کر ادا
سے رہتا ہوں

49

Download Image

کوئی تتلی نشانے پر نہیں ہے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب
سے رنگوں کا پیچھا کر رہا ہوں

44

Download Image

آج ہے ان کو آنا مزہ آئےگا
پھروں جلےگا زما
لگ مزہ آئےگا

تیر ان کی نظر کے چلیں گے کئی
دل بنےگا نشا
لگ مزہ آئےگا

44

Download Image

سب پرندوں سے پیار لوں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ
پیڑ کا روپ دھار لوں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ

تو نشانے پہ آ بھی جائے ا
گر
کون سا تیر مار لوں گا ہے وہ ہے وہ

192

Download Image

اپنے اصل معنی میں، 'نشا' رات کی خاموشی اور اس کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعری میں اسے اکثر راز، تنہائی اور نامعلوم کی علامت کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جو انسانی روح کی پوشیدہ گہرائیوں کی نمائندگی کرتا ہے۔

شاعر اکثر 'نشا' کا استعمال سکون اور خود شناسی کے احساس کو بیدار کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ سفر کے اختتام یا ایک نئے، پراسرار راستے کے آغاز کی علامت ہو سکتا ہے۔ یہ دن کی روشنی کے برعکس، اندھیرے میں چھپی خوبصورتی کو اجاگر کرتا ہے۔

'نشا' کی آغوش میں، شاعر روح کی گہری عکاسیوں کے لیے ایک کینوس پاتے ہیں۔ یہ ایک ایسا لفظ ہے جو غور و فکر اور خوابیدہ کیفیت کو دعوت دیتا ہے۔