Meaning of

قوام

qaam • क़वाम

استحکام; مضبوطی; پائیداری

consistency; firmness; stability

स्थिरता; दृढ़ता; स्थायित्व

Arabic

مقام فیض کوئی راہ ہے وہ ہے وہ جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے

34

Download Image

غم اور خوشی ہے وہ ہے وہ فرق لگ محسو
سے ہوں ج
ہاں
ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل کو ا
سے مقام پہ لاتا چلا گیا تو

78

Download Image

اسی مقام پہ کل مجھ کو دیکھ کر تنہا
بے حد ادا
سے ہوئے پھول بیچنے والے

65

Download Image

جگہ کی قید نہیں تھی کوئی کہی بیٹھے
ج
ہاں مقام ہمارا تھا ہم وہیں بیٹھے

امیر شہر کے آنے پہ اٹھنا پڑتا ہے
لہذا اگلی صفوں ہے وہ ہے وہ کبھی نہیں بیٹھے

58

Download Image

لائی ہے ک
سے مقام پہ یہ زندگی مجھے
محسو
سے ہوں رہی ہے خود اپنی کمی مجھے

52

Download Image

سر زمین ہند پر اقوام عالم کے فراق
بندھو بستے گئے ہندوستان بنتا گیا تو

48

Download Image

کوئی جاناں سا بھی کاش جاناں کو ملے
مدعا ہم کو انتقام سے ہے

48

Download Image

دولتیں ہوں شہرتیں ہوں کامیابی چار سو
آدمی در آدمی اب سو طرح کی پیا
سے ہیں

44

Download Image

ہمارا عشق عبادت کا ا
گلہ درجہ ہے
خدا نے چھوڑ دیا تو تمہارا نام لیا

غموں سے بیر تھا سو ہم نے خود کشی کر لی
شجر نے گر کے پرندوں سے انتقام لیا

40

Download Image

حسن کو شرمسار کرنا ہی
عشق کا انتقام ہوتا ہے

34

Download Image

مقام فیض کوئی راہ ہے وہ ہے وہ جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے

34

Download Image

غم اور خوشی ہے وہ ہے وہ فرق لگ محسو
سے ہوں ج
ہاں
ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل کو ا
سے مقام پہ لاتا چلا گیا تو

78

Download Image

قوام ایک غیر متزلزل استحکام اور مضبوطی کا احساس پیدا کرتا ہے۔ اپنے اصل معنی میں، یہ ایک اٹل اور مستقل حالت کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعری نے اس لفظ کو جذباتی مضبوطی اور انسانی روح کی ثابت قدمی کو بیان کرنے کے لیے اپنایا ہے۔

شاعر اکثر قوام کا استعمال محبت کی پائیدار فطرت یا انسانی دل کی مضبوطی کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ ان الفاظ کے برعکس ہے جو نازکی یا تبدیلی کا اشارہ دیتے ہیں۔ یہ استحکام میں پائے جانے والی قوت کا ثبوت ہے۔

قوام استقامت کی خاموش قوت کو مجسم کرتا ہے۔ یہ اپنی اصل کے ساتھ سچے رہنے کی طاقت کی یاد دہانی ہے۔