Meaning of

قہر

qahar • क़हर

قہر; غضب; الہی سزا

wrath; fury; divine punishment

क्रोध; प्रकोप; दैवीय दंड

Arabic

ہوا کرتی ہے جیجو کے مجلس ہے وہ ہے وہ یہ سرگوشی بھی اب 9
عجب ہی قہر ڈھا رکھا ہے چھڑکتا پر ان حسن والوں نے

0

Download Image

حقیقت قہر تھا کہ رات کا پتھر پگھل پڑا
کیا آتشیں گلاب کھلا آسمان پر

37

Download Image

درد کے دریا سے اک رشتہ نبھانا رہ گیا تو
مری ب
سے ہے وہ ہے وہ خموشی کا قہر ڈھانا رہ گیا تو

4

Download Image

حقیقت اک ن
گرا جو کبھی تیز تیز بہتی تھی
حقیقت آج ریت کے میدان سی بچھی ہوئی ہے

ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک درخت تھا اشرف کسی زمانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ
کھوکھلا کے قہر سے اب ٹھونٹھ ہی بچی ہوئی ہے

3

Download Image

لوگ کہتے ہے کہ زہر ہوتا ہے عشقپھر بھی ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر پہر ہوتا ہے عشقہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق خدا کی عبادت لگتی ہے کبھی
کبھی لگا خدا کا قہر ہوتا ہے عشق

2

Download Image

حقیقت چھوڑ کر تنہا ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو چل دیا
ہم بھی چلے خود کو اکہرا چھوڑ کر

2

Download Image

تو دور جا کے بیٹھا ہے تو اک خوشگوار سی ہے گر
تو پا
سے ہوتا یار تو کیا قہر مجھ
پہ ٹوٹتا

2

Download Image

نہیں ملتا ا
گر حقیقت ہے
نہیں جاتا اثر حقیقت ہے

کئی آنکھیں بجھی ا
سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ
بے حد زیادہ قہر حقیقت ہے

2

Download Image

عشق کے معیار ظرف نے ڈھایا ہے جو قہر
زیست و قضا کے زیر زبر ختم ہوئے

1

Download Image

اک تنہا زندگی ہے ب
سے قہر بن رہی ہے
جو زخموں کی دوا تھی اب زہر بن رہی ہے

سوچا خیال تھا اک تھے درد کچھ دکھانے
جو شاعری لکھی ہے تو بہر بن رہی ہے

1

Download Image

ہوا کرتی ہے جیجو کے مجلس ہے وہ ہے وہ یہ سرگوشی بھی اب 9
عجب ہی قہر ڈھا رکھا ہے چھڑکتا پر ان حسن والوں نے

0

Download Image

حقیقت قہر تھا کہ رات کا پتھر پگھل پڑا
کیا آتشیں گلاب کھلا آسمان پر

37

Download Image

قہر شدید، زبردست غصے یا الہی انتقام کی طاقت کو سمیٹے ہوئے ہے۔ یہ ان جذبات کی شدت کو پکڑتا ہے جو تباہی یا تبدیلی کی طرف لے جا سکتی ہیں۔

شاعری میں، 'قہر' اکثر فطرت یا قسمت کی تباہ کن طاقت کی علامت ہوتا ہے۔ اس کا استعمال روح کے اندر کے ہنگامے یا کائنات کی طرف سے دیے گئے ناگزیر انصاف کو ظاہر کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔

قہر ہمیں طاقت کی دوہری فطرت کی یاد دلاتا ہے - تباہی اور تجدید۔