Meaning of

رنج و غم

ranz-o-gham • रंज़-ओ-ग़म

رنج و غم; درد و تکلیف

sorrow and grief; pain and suffering

दुःख और पीड़ा; दर्द और कष्ट

Persian

झूठ जुमला है कि मर्दों को नहीं होता है दर्द
हर बशर की रूह को ग़म सालता तो ख़ूब है

दोस्ती कर ली हो जिसने रंज-ओ-ग़म की शाम से
दर्द ही दुश्मन है उसका दर्द ही महबूब है

0

Download Image

کیا ہوں گیا تو ہے دل کو جو یوں چیختا ہے یہ
آواز روز روز کسے دے رہا ہے یہ

دنیا شراب زہر اسے نام کچھ بھی دے
پر ہم تو جانتے ہیں غموں کی دوا ہے یہ

جاں کو مری قرار بھی پوچھوں رنج و غم ک
ہاں
اب کوئی مسئلہ لگ رہا مسئلہ ہے یہ

ہم سے نگاہ پھیر کے جانا حضور کا
پھروں شرطیہ نیا کوئی طرز کہوں ہے یہ

بھاگا کرے ادھر کہ جدھر راستہ نہیں
دل کو کہی بھی کیا کہ ک
ہاں مانتا ہے یہ

اب اور چھیڑیے لگ مری دل کو دیکھیے
پہلے ہی زار زار لہو رو چکا ہے یہ

اک بار منتظر جو لگایا زبان سے
پھروں عمر بھر لگ جائےگا کیسا نشہ ہے یہ

4

Download Image

رنج و غم جن
ہے وہ ہے وہ ہے وہ مبتلا تھا دل
ان کی تفتیش کر رہا ہوں ہے وہ ہے وہ

3

Download Image

مری زخموں کو اب مرہم ملے ہیں
ملے ہیں یار لیکن کم ملے ہیں

شجر کیا کیا ملا ہے کرنے والے ہے وہ ہے وہ ہے وہ
فریب و زخم رنج و غم ملے ہیں

2

Download Image

حوصلہ گر ہوں ٹوٹ جانے کا
تب کہیں جا کے دل لگانے کا

زندگی رنج و غم کا دریا ہے
عشق ہے نام ڈوب جانے کا

2

Download Image

سب رنج و غم بھی گم تھے جب مری ساتھ تم تھے
وہ دور تھا ہمارا کتنا ہنسی خوشی کا

2

Download Image

ماتھے پر لگ شکن دکھ جائے ہونٹوں کو سی جاتے ہیں
ہم زار زار ہی سارے رنج و غم پی جاتے ہیں

کچھ کچھ پانی کے قطرے سی فطرت پالی ہے ہم نے
گر ہاتھوں سے فسلے تو پھروں یار فسل ہی جاتے ہیں

1

Download Image

تاکتے کے رنج و غم دیکھ کے مانا ہم ان سے اچھے
ان کو پڑھ کے سمجھے کیا ہے دیا ا
سے سورج کے آگے

1

Download Image

تری بعد اب ہم درختوں سے بھی بدلے لیںگے
پرندے ق
سے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ کر کے اٹاری کی تصویرے لیںگے

خدا کے بنائے ہوئے ہے یہ رنج و غم دل
خدا جب بھی چاہےگا خود اپنے یہ رستے لیںگے

0

Download Image

مجھ کو عزیز ایسے ہیں دنیا کے رنج و غم
چنو کسی مختلف کو کاسا عزیز ہوں

0

Download Image

झूठ जुमला है कि मर्दों को नहीं होता है दर्द
हर बशर की रूह को ग़म सालता तो ख़ूब है

दोस्ती कर ली हो जिसने रंज-ओ-ग़म की शाम से
दर्द ही दुश्मन है उसका दर्द ही महबूब है

0

Download Image

کیا ہوں گیا تو ہے دل کو جو یوں چیختا ہے یہ
آواز روز روز کسے دے رہا ہے یہ

دنیا شراب زہر اسے نام کچھ بھی دے
پر ہم تو جانتے ہیں غموں کی دوا ہے یہ

جاں کو مری قرار بھی پوچھوں رنج و غم ک
ہاں
اب کوئی مسئلہ لگ رہا مسئلہ ہے یہ

ہم سے نگاہ پھیر کے جانا حضور کا
پھروں شرطیہ نیا کوئی طرز کہوں ہے یہ

بھاگا کرے ادھر کہ جدھر راستہ نہیں
دل کو کہی بھی کیا کہ ک
ہاں مانتا ہے یہ

اب اور چھیڑیے لگ مری دل کو دیکھیے
پہلے ہی زار زار لہو رو چکا ہے یہ

اک بار منتظر جو لگایا زبان سے
پھروں عمر بھر لگ جائےگا کیسا نشہ ہے یہ

4

Download Image

'رنج و غم' عبارت انسانی غم و الم کی گہری گہرائیوں کو سمیٹے ہوئے ہے۔ شاعری میں، یہ دل کی گہری تکلیف اور نقصان کے عالمی تجربے کو بیان کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

شاعر 'رنج و غم' کا استعمال اداسی اور وجودی مایوسی کے موضوعات میں گہرائی سے جانے کے لئے کرتے ہیں۔ یہ اکثر عارضی خوشی کے لمحات کے برعکس ہوتا ہے، جو انسانی تجربے کی دوگانگی کو اجاگر کرتا ہے۔

شاعری میں، 'رنج و غم' روح کی خاموش فریادوں کو منعکس کرنے والا آئینہ بن جاتا ہے۔