Meaning of

شاہد

shaahid • शाहिद

گواہ; ثبوت; حسن

witness; evidence; beauty

गवाह; सबूत; सुंदरता

Arabic

سلسلہ یہ ہے کہ اب حقیقت بھی خفا رہنے لگا
خواب روٹھا مری آنکھوں سے جدا رہنے لگا

مری احسا
سے کی چان
گرا کی چمک شاہد و ساقی ہے
جب سے آ
پہ ہے وہ ہے وہ محبت کا خدا رہنے لگا

0

Download Image

اتنا مصروف ہوں جینے کی ہوں
سے ہے وہ ہے وہ شاہد
سان
سے لینے کی بھی فرصت نہیں ہوتی مجھ کو

29

Download Image

شاہد و ساقی شاہد و ساقی لہریں ہیں ٹھہرا ٹھہرا ساحل ہے
اڑتی اڑتی یادیں ہیں سہما سہما سا دل ہے

4

Download Image

تمہارے عشق ہے وہ ہے وہ کچھ تو کمی ہوئی ہوں گی
محبتوں کا شرارہ تبھی تو شاہد و ساقی ہے

3

Download Image

جانے کا جو غم ہوتا ہے
تیز کبھی شاہد و ساقی ہوتا ہے

جاناں سے بچھڑ کر جانا ہم نے
آنکھ کا آنسو نمہ ہوتا ہے

2

Download Image

ہزاروں آندھیاں طوفان آئی اور گئے یاروں
چراغ ریختہ شاہد و ساقی صحیح پر اب بھی جلتا ہے

1

Download Image

منصف سے اپنے حق ہے وہ ہے وہ کیا بولے نا توان پھروں
جب ایک ہوں گئے ہوں دونوں طرف کے شاہد

1

Download Image

حقیقت لڑکی ہے شاطر دنیا داری ہے وہ ہے وہ ہے وہ
عشق محبت ہے وہ ہے وہ پر تھوڑی شاہد و ساقی ہے

1

Download Image

شب مہتاب یہ کیا ماجرا ہے
رکھ مہتاب شاہد و ساقی ہوں رہا ہے

0

Download Image

ا
سے کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ کاجل کم ہے تو کوئی بات نہیں
چاند ا
گر تھوڑا شاہد و ساقی ہے آج تو کوئی بات نہیں

0

Download Image

سلسلہ یہ ہے کہ اب حقیقت بھی خفا رہنے لگا
خواب روٹھا مری آنکھوں سے جدا رہنے لگا

مری احسا
سے کی چان
گرا کی چمک شاہد و ساقی ہے
جب سے آ
پہ ہے وہ ہے وہ محبت کا خدا رہنے لگا

0

Download Image

اتنا مصروف ہوں جینے کی ہوں
سے ہے وہ ہے وہ شاہد
سان
سے لینے کی بھی فرصت نہیں ہوتی مجھ کو

29

Download Image

اپنے اصل معنی میں، 'شاہد' ایک گواہ یا کسی کو جو گواہی دیتا ہے، کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ تصور حسن کو خود الہی یا عظیم کی گواہی کے طور پر پھیلاتا ہے۔ یہ لفظ موجودگی کا احساس رکھتا ہے، ایک ناقابل تردید حقیقت جو ہمارے سامنے کھڑی ہوتی ہے۔

شاعر اکثر 'شاہد' کا استعمال حسن کو گہرے حقائق کی خاموش گواہ کے طور پر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ ایک محبوب کا ذکر کر سکتا ہے جس کی محض موجودگی شاعر کے جذبات کی گواہی دیتی ہے۔ یہ لفظ دیکھے ہوئے اور ان دیکھے، معلوم اور نامعلوم کے درمیان بھی فرق کر سکتا ہے۔

شاعری میں، 'شاہد' ٹھوس اور غیر مادی کے درمیان ایک پل بن جاتا ہے۔ یہ واقعی دیکھے گئے پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔