Meaning of

شب

shab • शब

رات; تاریکی

night; darkness

रात; अंधकार

Persian

بے لحاظ یہ پہلو نکال لیتا ہے
کہ پتھروں سے بھی خوشبو نکال لیتا ہے

ہے بے لحاظ کچھ ایسا کی آنکھ لگتے ہی
حقیقت سر کے نیچے سے بازو نکال لیتا ہے

77

Download Image

ذرا ٹھہرو کہ شب فیکی بے حد ہے
تمہیں گھر جانے کی جل
گرا بے حد ہے

ذرا نزدیک آ کر بیٹھ جاؤ
تمہارے شہر ہے وہ ہے وہ سر
گرا بے حد ہے

173

Download Image

پہلے ا
سے کی خوشبو ہے وہ ہے وہ نے خود پر تاری کی
پھروں ہے وہ ہے وہ نے ا
سے پھول سے ملنے کی تیاری کی

اتنا دکھ تھا مجھ کو تری لوٹ کے جانے کا
ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے گھر کے دروازوں سے بھی منا ماری کی

114

Download Image

تاری
کیوں کو آگ لگے اور دیا جلے
یہ رات بین کرتی رہے اور دیا جلے

ا
سے کی زبان ہے وہ ہے وہ اتنا اثر ہے کہ نصف شب
حقیقت روشنی کی بات کرے اور دیا جلے

103

Download Image

جاناں نے کیسے ا
سے کے جسم کی خوشبو سے انکار کیا
ا
سے پر پانی پھینک کے دیکھو کچی مٹی جیسا ہے

102

Download Image

پیار کا رشتہ ایسا رشتہ شبنم بھی چنگاری بھی
زبان ان سے روز ہی جھگڑا اور انہی سے یاری بھی

101

Download Image

خوشبو کی برسات نہیں کر پاتے ہیں
ہم خود ہی شروعات نہیں کر پاتے ہیں

ج
سے لڑکی کی باتیں کرتے ہیں سب سے
ا
سے لڑکی سے بات نہیں کر پاتے ہیں

83

Download Image

نئی فصلوں کو یہ کچھ اور سے کچھ اور کرتے ہیں
گلابوں کی جو خوشبو ڈھونڈھتے ہیں رات رانی ہے وہ ہے وہ

83

Download Image

تیری خوشبو کو قید ہے وہ ہے وہ رکھنا
عطر دانوں کے ب
سے کی بات نہیں

79

Download Image

چاند چہرہ زلف دریا بات خوشبو دل چمن
اک تمہیں دے کر خدا نے دے دیا کیا کیا مجھے

79

Download Image

بے لحاظ یہ پہلو نکال لیتا ہے
کہ پتھروں سے بھی خوشبو نکال لیتا ہے

ہے بے لحاظ کچھ ایسا کی آنکھ لگتے ہی
حقیقت سر کے نیچے سے بازو نکال لیتا ہے

77

Download Image

ذرا ٹھہرو کہ شب فیکی بے حد ہے
تمہیں گھر جانے کی جل
گرا بے حد ہے

ذرا نزدیک آ کر بیٹھ جاؤ
تمہارے شہر ہے وہ ہے وہ سر
گرا بے حد ہے

173

Download Image

'شب' کا لفظ رات کی خاموشی اور اسرار کو اجاگر کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر نامعلوم، خوابوں کی دنیا اور رات کی خود شناسی کی خاموشی کی علامت ہوتا ہے۔ یہ غور و فکر کا وقت ہے، جب راز کھلتے ہیں اور روح بھٹکتی ہے۔

شاعر 'شب' کا استعمال تنہائی، اسرار اور خود شناسی کے موضوعات کی کھوج کے لیے کرتے ہیں۔ یہ دن کی روشنی کے برعکس ہے، جو خوابوں اور چھپی ہوئی خواہشات کے لیے ایک کینوس فراہم کرتا ہے۔ رات ایک رازدار ہے، رازوں کی محافظ۔

شاعری میں، 'شب' روح کے سائے میں سفر کا استعارہ ہے۔ یہ ہمیں نامعلوم کو گلے لگانے اور تاریکی میں خوبصورتی تلاش کرنے کی دعوت دیتا ہے۔