Meaning of

شمشیر

shamsheer • शमशीर

شمشیر; تلوار

sword; blade

तलवार; धार

Persian

گر نہیں دیکھا ہے تو نے ہیر رانجھے
دیکھ تیری مری یہ تصویر رانجھے

مری ہاتھوں ہے وہ ہے وہ نہیں ہے ہاتھ تیرا
مری ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ہے اک شمشیر رانجھے

1

Download Image

یقین محکم عمل پےہم محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی ہے وہ ہے وہ ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

22

Download Image

جگمگاتا ہوا خنجر مری سینے ہے وہ ہے وہ اتار
روشنی لے کے کبھی شمشیر بے نیام ہے وہ ہے وہ آ

16

Download Image

غلامی ہے وہ ہے وہ لگ کام آتی ہیں شمشیریں لگ تدبیریں
جو ہوں ذوق یقین پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

9

Download Image

آباد ہوئے شہر ہے وہ ہے وہ شمشان ہزاروں
قاتل تری شمشیر کے احسان ہزاروں

جو آپ چلے آئی سرے بام قسم سے
ہونے لگے قربان دلو جان ہزاروں

5

Download Image

حقیقت چور کوئی سورمہ لگتا ہے کہی کا
زیور لگ چرا پایا تو شمشیر چرا لی

2

Download Image

بے بحر اشعار کی شمشیر لے کر ہاتھ میں
قاتلان اردو اب ہر سو نظر آنے لگے

1

Download Image

शमशीर सब्र की मैं लिए जूझता रहा
तब दौर-ए-पुर फ़ितन से मिली फ़त्ह जंग में

1

Download Image

حرف بہ حرف لکھی مری تقدیر ا
سے نے
کام ہے وہ ہے وہ لائی م
گر اپنی شمشیر ا
سے نے

1

Download Image

ا
سے کی دیوار پہ تصویر بنا رکھی تھی
ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے خود پاؤں کی زنجیر بنا رکھی تھی

لکھتے رہنے سے میرا خون نکل آیا تھا
ا
سے نے کاغذ پہ بھی شمشیر بنا رکھی تھی

1

Download Image

گر نہیں دیکھا ہے تو نے ہیر رانجھے
دیکھ تیری مری یہ تصویر رانجھے

مری ہاتھوں ہے وہ ہے وہ نہیں ہے ہاتھ تیرا
مری ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ہے اک شمشیر رانجھے

1

Download Image

یقین محکم عمل پےہم محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی ہے وہ ہے وہ ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

22

Download Image

شمشیر ایک خوبصورت اور خطرناک ہتھیار کی کاریگری کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر طاقت، تصادم، یا ذہانت کی تیزی کی علامت ہوتا ہے۔ یہ لفظ خوبصورتی اور خطرے کی دوگانگی کو ظاہر کرتا ہے، جو انسانی فطرت کی پیچیدگیوں کو ظاہر کرتا ہے۔

شاعر 'شمشیر' کا استعمال دل یا دماغ کی جنگوں کو ظاہر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ عاشق کے تیز الفاظ یا زندگی کے فیصلہ کن لمحات کی علامت ہو سکتا ہے۔

شاعری میں 'شمشیر' وہم کے پردوں کو کاٹ کر خوبصورت اور سخت دونوں سچائیوں کو ظاہر کرتا ہے۔