Meaning of

ویراں

veeraan • वीराँ

ویران; سنسان; بنجر

desolate; deserted; barren

उजाड़; सुनसान; बंजर

Persian

دل آباد ک
ہاں رہ پائے ا
سے کی یاد بھلا دینے سے
کمرہ ویراں ہوں جاتا ہے اک تصویر ہٹا دینے سے

30

Download Image

یار بچھڑ کر جاناں نے ہنستا آپ ہے وہ ہے وہ گھر ویران کیا
مجھ کو بھی آباد لگ رکھا اپنا بھی نقصان کیا

122

Download Image

حقیقت مری دنیا کا حصہ تھی مری دنیا نہیں
اک شجر کٹنے سے ون ویران ہوں جائےگا کیا

48

Download Image

نئے دیوانوں کو دیکھیں تو خوشی ہوتی ہے
ہم بھی ایسے ہی تھے جب آئی تھے ویرانے ہے وہ ہے وہ

48

Download Image

دانشمندوں رستہ بتلا سکتے ہوں
دیوا
لگ ہوں ویرانے تک جانا ہے

جنت والے تھوڑا پہلے اتریںگے
رندوں کو تو مے خانے تک جانا ہے

48

Download Image

دل پر دستک دینے کون آ نکلا ہے
ک
سے کی آہٹ سنتا ہوں ویرانے ہے وہ ہے وہ

35

Download Image

بعد ا
سے کے دل ن
گر پھروں ب
سے گیا تو
احترام لگ اک گلی ویران ہے

34

Download Image

مہینوں تک رہا کرتے تھے سب مہمان آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ
مغر اب خواب بھی آتے نہیں ویران آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ

زمان اے ہجر کہنے کو رواج اے عشق ہی تو ہے
مغر کیا کیا نہیں ہوتا ہے ا
سے دوران آنکھوں ہے وہ ہے وہ

34

Download Image

رات یوں دل ہے وہ ہے وہ تری کھوئی ہوئی یاد آئی
چنو ویرانے ہے وہ ہے وہ چپکے سے بہار آ جائے

33

Download Image

ہے وہ ہے وہ نے آباد کیے کتنے ہی ویرانے عرو
سے بہار
زندگی مری اک اجڑی ہوئی محفل ہی صحیح

32

Download Image

دل آباد ک
ہاں رہ پائے ا
سے کی یاد بھلا دینے سے
کمرہ ویراں ہوں جاتا ہے اک تصویر ہٹا دینے سے

30

Download Image

یار بچھڑ کر جاناں نے ہنستا آپ ہے وہ ہے وہ گھر ویران کیا
مجھ کو بھی آباد لگ رکھا اپنا بھی نقصان کیا

122

Download Image

ویراں ایک خالی پن اور ترک کی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے، ایک ایسا منظر نامہ جو زندگی اور رونق سے خالی ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر روح کی اندرونی ویرانی کی علامت ہے، ادھوری خواہشات اور خوابوں کی بنجر زمین، جو تنہائی کی خاموشی کو گونجتی ہے۔

شاعر 'ویراں' کا استعمال بیرونی دنیا اور اندرونی خالی پن کے درمیان کے شدید تضاد کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ کھوئے ہوئے محبت کے ویران نتائج یا بھولے ہوئے مقام کی بنجر خاموشی کا بیان کر سکتا ہے۔ یہ لفظ اکثر ایک بھوتیا خوبصورتی کو سموئے ہوتا ہے۔

'ویراں' کی خاموشی میں، کوئی بھولے ہوئے خوابوں کی گونج سنتا ہے۔ یہ تنہائی میں پائے جانے والے حسن کی یاد دلاتا ہے۔