Meaning of

یتیم

yateem • यतीम

یتیم; والدین کے بغیر

orphan; one without parents

अनाथ; माता-पिता के बिना

Arabic

ظلم مظلوموں پہ ڈھانا چھوڑ دو
حق داڑھیاں کا دبانا چھوڑ دو

یہ نہیں کر سکتے تو بہتر ہے یہ
سر کو سجدے ہے وہ ہے وہ جھکانا چھوڑ دو

0

Download Image

داڑھیاں کی طرح بس پال رکھا ہے نہ ہم نے
ہمیں جو دکھ ملے ہیں حقیقت ہمارے دکھ نہیں لگتے

کسی کی آنکھ ہے وہ ہے وہ رہ کر کسی کے خواب دیکھے ہیں
ہزاروں کوششیں کی پر کنارے دکھ نہیں لگتے

37

Download Image

خوشنصیبی ہے تمہاری سر پہ ہے جو ماں کا ہاتھ
ہم داڑھیاں کو پتا ہے یہ دعا کیا چیز ہے

10

Download Image

مری ماں باپ جنت سے نظر رکھتے ہیں مجھ پر اب
مری دل ہے وہ ہے وہ داڑھیاں کے لیے اک خاص کونا ہے

8

Download Image

حقیقت گھومتی مجھ کو دیکھی تو ہے وہ ہے وہ سوالوں ہے وہ ہے وہ رہا
تھی تو وہی ہے وہ ہے وہ رات بھر ج
سے کے خیالوں ہے وہ ہے وہ رہا

اب تک سمیٹے ہے کہ خوشبو حقیقت یتیم ہے ہر دشا
حقیقت ایک دن جو پھول ب
سے کچھ دیر بالوں ہے وہ ہے وہ رہا

3

Download Image

قلب حزیں متاع جاں یوں شاد کیجیے
کثرت کے ساتھ آپ ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ یاد کیجیے

دولت ہے وہ ہے وہ چاہتے ہوں اضافہ ا
گر شجر
تو بیکسوں داڑھیاں کی امداد کیجیے

1

Download Image

کیوں کسی کو یتیم کہتے ہوں
ساری دنیا اندھیرا ہے

0

Download Image

ماں کے ہونے کی عظمت سے ہوں جاناں بھی نا واقف
کیا ہے زندگی بن ماں پوچھو یہ داڑھیاں سے

0

Download Image

جو داڑھیاں کو اپنا نہیں مانتے
حقیقت خدا کی یہ رحمت نہیں جانتے

0

Download Image

ا
گر یتیم و غریب کی جاناں مدد کروگے جزا ملےگی
سکون قلب حزیں ملےگا خدا نبی کی رضا ملےگی

کبھی بھی اپنے دلوں کے اندر کسی سے بغض و حسد لگ رکھنا
وشق رب القدیر ہے یہ غلطیاں کروگے سزا ملےگی

0

Download Image

ظلم مظلوموں پہ ڈھانا چھوڑ دو
حق داڑھیاں کا دبانا چھوڑ دو

یہ نہیں کر سکتے تو بہتر ہے یہ
سر کو سجدے ہے وہ ہے وہ جھکانا چھوڑ دو

0

Download Image

داڑھیاں کی طرح بس پال رکھا ہے نہ ہم نے
ہمیں جو دکھ ملے ہیں حقیقت ہمارے دکھ نہیں لگتے

کسی کی آنکھ ہے وہ ہے وہ رہ کر کسی کے خواب دیکھے ہیں
ہزاروں کوششیں کی پر کنارے دکھ نہیں لگتے

37

Download Image

یتیم کا لفظ تنہائی اور عدم تحفظ کے گہرے احساس کو بیدار کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ صرف والدین کی عدم موجودگی کی علامت نہیں ہے بلکہ ایک گہرے وجودی تنہائی کا بھی۔ زندگی کی وسعت میں بھٹکتی ہوئی ایک یتیم روح کی تصویر دل کو چھو لینے والی اور دردناک ہے۔

شعراء اکثر 'یتیم' کا استعمال ترک اور آرزو کے موضوعات کو ظاہر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ ایک دل کو ناکام محبت سے ویران چھوڑے جانے یا ایک روح کو ایک ایسے دنیا میں اپنائیت کی تلاش کرتے ہوئے ظاہر کر سکتا ہے جو بے حس محسوس ہوتی ہے۔

اپنی شاعرانہ جوہر میں، 'یتیم' ان لوگوں کی خاموش پکاروں کو پکڑتا ہے جو اکیلے بھٹکتے ہیں۔ یہ ایک ایسا لفظ ہے جو دل کی گہری خواہشات کے ساتھ گونجتا ہے۔