Meaning of

زخموں

zaKHmon • ज़ख़्मों

زخم; نشان

wounds; scars

घाव; निशान

Arabic

جب بھی ماضی کے زخموں پر مجھے ہوا لگتی ہے
بن کے مرہم دل پہ سگریٹ ہی دوا لگتی ہے

11

Download Image

چارا
گر اے چارا
گر چلاتی تھی
زخموں کو بھی ہاتھ نہیں لگواتی تھی

پتا نہیں کیسا ماحول تھا ا
سے کے گھر
برقعہ پہن کے شرٹیں لینے آتی تھی

48

Download Image

یوں بے ترتیب زخموں نے بتایا راز قاتل کا
سلیقے سے جو میرا قتل گر ہوتا تو کیا ہوتا

42

Download Image

زندگی یوں بھی گزاری جا رہی ہے
چنو کوئی جنگ ہاری جا رہی ہے

ج
سے جگہ پہلے سے زخموں کے نشان تھے
پھروں وہیں پہ چوٹ ماری جا رہی ہے

39

Download Image

اور کیا ا
سے سے زیادہ کوئی دل پسند نرمی
دل کے زخموں کو چھوا ہے تری گالوں کی طرح

31

Download Image

دل کے زخموں کا کچھ کیا لگ کروں
چاک ہوں جائے تو سیا لگ کروں

28

Download Image

جب بھی ا
سے کوچے ہے وہ ہے وہ جانا پڑتا ہے
زخموں پر تیزاب لگانا پڑتا ہے

ا
سے کے گھر سے دور نہیں ہے میرا گھر
رستے ہے وہ ہے وہ پر ایک زما
لگ پڑتا ہے

24

Download Image

بھرا ہے مری دل کو زخموں سے ا
سے نے
حقیقت ج
سے کی مجھے مانگ بھڑنی تھی یاروں

15

Download Image

ہے وہ ہے وہ اطراف ہی رہا دشت شناسائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ
کوئی اترا ہی نہیں روح کی گہرائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

کیا ملایا ہے بتا جام پذیرائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ
خوب نشہ ہے تیری حوصلہ افزائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

تیری یادوں کی سوئی پریم کا دھاگا میرا
کام آئی ہیں بے حد زخموں کی تڑ
پائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

ڈ
سے رہی ہے یہ سیہ رات کی سیپی مجھ کو
بھر رہی زہر خموشی رگ تنہائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

سرمہ مکر و فریب آنکھوں ہے وہ ہے وہ جب سے ہے لگا
تب سے ہے خوب اضافہ حد بینائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

فکر و فن رنگ تغزل لگ غزل کی خوشبو
ب
سے لگا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ قافیہ پیمائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

سیکھ پانی سے ہنر کام انی
سے آئےگا
دوڑ کر خود ہی چلا آتا ہے گہرائی ہے وہ ہے وہ

13

Download Image

کسی کی یاد آتی ہے کسی کو یاد کرتا ہوں
ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ سب کام زخموں کی عبادت بعد کرتا ہوں

13

Download Image

جب بھی ماضی کے زخموں پر مجھے ہوا لگتی ہے
بن کے مرہم دل پہ سگریٹ ہی دوا لگتی ہے

11

Download Image

چارا
گر اے چارا
گر چلاتی تھی
زخموں کو بھی ہاتھ نہیں لگواتی تھی

پتا نہیں کیسا ماحول تھا ا
سے کے گھر
برقعہ پہن کے شرٹیں لینے آتی تھی

48

Download Image

زخموں کا لفظ جسمانی اور جذباتی زخموں کی تصویر پیش کرتا ہے، جو اکثر چھپے ہوتے ہیں لیکن گہرائی سے محسوس کیے جاتے ہیں۔ شاعری میں، یہ محبت، نقصان اور زندگی کی آزمائشوں سے چھوڑے گئے نشانات کی علامت ہے، جو غیر بیان شدہ درد اور برداشت کا وزن رکھتے ہیں۔

شاعر اکثر 'زخموں' کا استعمال دل کے درد اور شفا کے موضوعات کی کھوج کے لیے کرتے ہیں۔ یہ تکلیف کی خاموش برداشت یا کمزوری میں پائی جانے والی خوبصورتی کی نمائندگی کر سکتا ہے۔ یہ لفظ شفا کے ساتھ تضاد میں ہے، درد سے صحت یابی کے سفر کو اجاگر کرتا ہے۔

شاعری میں، 'زخموں' کمزوری میں پائی جانے والی برداشت کی ایک دلکش یاد دہانی کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ درد کو برداشت کرنے کی خاموش طاقت کو پکڑتا ہے۔