Meaning of

نرا

zauq-e-tajalli • ज़ौक़-ए-तजल्ली

الہی روشنی کا ذوق; روحانی بصیرت

taste for divine illumination; spiritual insight

दैवीय प्रकाश के प्रति रुचि; आध्यात्मिक अंतर्दृष्टि

Arabic

محبت گر نہیں ہوتی تو بھونرا کیا کیا کرتا
لگ کوئی آشنا ہوتا لگ کوئی گل کھلا کرتا

3

Download Image

ا
سے شہر ہے وہ ہے وہ جینے کے انداز نرالے ہیں
ہونٹوں پہ کھنچائے ہیں آواز ہے وہ ہے وہ چھالے ہیں

43

Download Image

انوکھی وضع ہے سارے زمانے سے نرالے ہیں
یہ عاشق کون سی بستی کے یا رب رہنے والے ہیں

34

Download Image

مقتل شوق کے صاحب کردار نرالے ہیں بے حد
دل بھی قاتل کو دیا کرتے ہیں سر سے پہلے

13

Download Image

دن بھر بھوکا رہ کر ہی جاناں من مریزیاں
روٹی کا بھی ڈھائیں نرالا ہوتا ہے

جن کا ساتھ نہیں دیتی دنیا ساری
ان کا ہی ب
سے اوپر والا ہوتا ہے

6

Download Image

جو خود کو رب سمجھتے تھے ا
نہیں بھی موت آئی تھی
خدا ب
سے ایک ہے ج
سے کی نرالی شان ہوتی ہے

6

Download Image

مجھے کوئی بھی کانٹا جب دیکھے نہیں مری لیے
نراش ہوتا ہوں حقیقت کھو گئے کہی مری لیے

5

Download Image

مری انداز زمانے سے نرالے ہوں گے
آج اندھیرے ہیں تو کیا کل کو اجالے ہوں گے

ایک روٹی میں سناتے ہیں تجھے کتنا کچھ
کل سے ہونٹوں پہ تری میرے نوالے ہوں گے

کم سے کم سیکڑوں کو بھوک نے مارا ہوگا
بچ گئے جتنے سبھی درد نے پالے ہوں گے

اب ہمیں موت بھی اڑاؤ نہیں کرتی ہے
زندگی تو ہی بتا کس کے حوالے ہوں گے

ہر دفع چھین لیا میرا نوالا سب نے
پھروں تو بچے بھی تری بھوک نے پالے ہوں گے

ارے کمرے میں مری کچھ بھی نہیں ہے سچی
چار دیوار ملیںگی بچے خانہ خراب ہوں گے

شہر دل میں سنو تو کوئی نہیں رہتا ہے
تم کہاں جا رہے ہو سب میں ہی تالے ہوں گے

چھوڑ کے خود کو زمانے کو دیا ہے مرہم
پھروں تو بے شک ہی تری پاؤں میں چھالے ہوں گے

4

Download Image

ہر اور بہا خون کہی لاش بچھی ہے
انسان نراشا ہے وہ ہے وہ نہیں آ
سے بچی ہے

4

Download Image

ستم کو کر دیا رسوا تبسم لب سے
علی کے شعر تیرا فن بڑا نرالا ہے

4

Download Image

محبت گر نہیں ہوتی تو بھونرا کیا کیا کرتا
لگ کوئی آشنا ہوتا لگ کوئی گل کھلا کرتا

3

Download Image

ا
سے شہر ہے وہ ہے وہ جینے کے انداز نرالے ہیں
ہونٹوں پہ کھنچائے ہیں آواز ہے وہ ہے وہ چھالے ہیں

43

Download Image

ذوق تجلی الہی روشنی اور فہم کی خواہش کو پکڑتا ہے۔ یہ ایک گہری روحانی پیاس کی عکاسی کرتا ہے، ایک اعلیٰ طاقت کے ذریعے روشن ہونے کی خواہش، جو عام دائرے سے ماورا ہے۔

شعراء اکثر ذوق تجلی کا استعمال روح کی روشن خیالی اور الہی تعلق کی خواہش کو ظاہر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ روحانی سفر کے لیے ایک استعارہ ہے، ایک عظمت کی تلاش۔

ذوق تجلی دل کی روشنی کے لیے ابدی تلاش کو مخاطب کرتا ہے۔ یہ الہی کی تلاش میں پائی جانے والی خوبصورتی کی یاد دہانی ہے۔