Meaning of

ابد

abad • अबद

ابدیت; ہمیشہ

eternity; forever

अनंत; सदा

Arabic

رہے گا جو بن کے کہانی ہے وہ ہے وہ میرا
حقیقت کردار زندہ رکھوں گا ابد تک

2

Download Image

الجھ کر کے تیری زلفوں ہے وہ ہے وہ یوں آباد ہوں جاؤں
کہ چنو چھوڑنا کا ہے وہ ہے وہ امین آباد ہوں جاؤں

ہے وہ ہے وہ ہے وہ یمنا کی طرح تنہا نہاروں تاج کو کب تک
کوئی گنگا ملے تو ہے وہ ہے وہ الہ آباد ہوں جاؤں

101

Download Image

ये न पूछ कितना जिया हूँ मैं ये न पूछ कैसे जिया हूँ मैं
कि अबद की आँख भी लग गई मेरे ग़म की शाम-ए-दराज़ में

14

Download Image

لہرا کر اپنی خم زلف ا
سے نے
ازل ابد کو بھی الجھا رکھا ہے

9

Download Image

گم سوم ہوکر ج
سے کی یاد ہے وہ ہے وہ رہتی ہوں
ا
سے بن تو جاناں سب سے بعد ہے وہ ہے وہ رہتی ہوں

گنگاجل کے چنو نرمل بولی ہے
زبان کے جاناں الہ آباد ہے وہ ہے وہ رہتی ہوں

5

Download Image

دو جھکے نینوں نے جو دن بھر کیا سواد لے کر
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایودھیا لوٹ آیا چھوڑنا سے یاد لے کر

تین جھمکا چار بوسہ پانچ جھپی آٹھ کنگن
رکھ دیا ہے پر
سے ہے وہ ہے وہ پورا امین آباد لے کر

5

Download Image

سکون کی کھوج ہے وہ ہے وہ 9 مجھے جاناں یاد آوگی
بتاؤ نا کہ پھروں کب جاناں الہ آباد آوگی

4

Download Image

سنو دل کی مری دھڑکن مری پڑنا آ جاؤ
ابھی ہے ٹھنڈ کا موسم جاناں ا
سے کے بعد آ جاؤ

نہیں لگتا ہے میرا دل کسی صورت کتابوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ
سنو ایسا کروں اب جاناں الہ آباد آ جاؤ

3

Download Image

ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ جہان ہے وہ ہے وہ آنا ہے اور جانا ہے
ہمارا فرض ہے جو اس کا کو ب
سے نبھانا ہے

ج
ہاں ہے وہ ہے وہ ہم سبھی تذبذب ہیں یاروں
انتقامن ک
ہاں پہ کوئی مستقل ہری ہے

3

Download Image

قد ہے وہ ہے وہ بڑا ہوں ا
سے
لیے ب
سے چھاؤں سب کو دی
سورج سے ورنا تیز ہوں ہے وہ ہے وہ تابدار ہے وہ ہے وہ

3

Download Image

رہے گا جو بن کے کہانی ہے وہ ہے وہ میرا
حقیقت کردار زندہ رکھوں گا ابد تک

2

Download Image

الجھ کر کے تیری زلفوں ہے وہ ہے وہ یوں آباد ہوں جاؤں
کہ چنو چھوڑنا کا ہے وہ ہے وہ امین آباد ہوں جاؤں

ہے وہ ہے وہ ہے وہ یمنا کی طرح تنہا نہاروں تاج کو کب تک
کوئی گنگا ملے تو ہے وہ ہے وہ الہ آباد ہوں جاؤں

101

Download Image

ابد کا لفظ لامحدود کو ظاہر کرتا ہے، ایک لازوال وسعت جو انسانی فہم سے ماورا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر محبت، زندگی یا کائنات کی ابدی فطرت کی علامت ہوتا ہے۔

شاعر 'ابد' کا استعمال لازوالیت کے خیال کو ظاہر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ زندگی کے نہ ختم ہونے والے چکر یا روح کی دائمی فطرت کی نمائندگی کر سکتا ہے۔

شاعری میں، 'ابد' لامحدود کے غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ یہ وجود کے ابدی رقص کی سرگوشی کرتا ہے۔