Meaning of

اطراف

ataraaf • अतराफ़

گرد و نواح; مضافات; حاشیہ

surroundings; outskirts; periphery

परिवेश; बाहरी क्षेत्र; परिधि

Arabic

یوں اطراف نوی ی
ہاں ہر پہر
جو ہے ا
سے شہر تو کبھی ا
سے شہر

1

Download Image

ہے وہ ہے وہ ہوں صدیوں سے اطراف ہوا پیاسا دریا
اے خدا کچھ تو سمندر کے سوا دے مجھ کو

38

Download Image

اسی کانسا کی غفلت سے آگہی لی ہے
مری چراغ سے سورج نے روشنی لی ہے

گلی گلی ہے وہ ہے وہ اطراف ہے شور کرتا ہوا
ہمارے عشق نے سستی شراب پی لی ہے

36

Download Image

ہے وہ ہے وہ اطراف ہی رہا دشت شناسائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ
کوئی اترا ہی نہیں روح کی گہرائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

کیا ملایا ہے بتا جام پذیرائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ
خوب نشہ ہے تیری حوصلہ افزائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

تیری یادوں کی سوئی پریم کا دھاگا میرا
کام آئی ہیں بے حد زخموں کی تڑ
پائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

ڈ
سے رہی ہے یہ سیہ رات کی سیپی مجھ کو
بھر رہی زہر خموشی رگ تنہائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

سرمہ مکر و فریب آنکھوں ہے وہ ہے وہ جب سے ہے لگا
تب سے ہے خوب اضافہ حد بینائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

فکر و فن رنگ تغزل لگ غزل کی خوشبو
ب
سے لگا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ قافیہ پیمائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

سیکھ پانی سے ہنر کام انی
سے آئےگا
دوڑ کر خود ہی چلا آتا ہے گہرائی ہے وہ ہے وہ

13

Download Image

گل سا تو تیرا ساتھ خوشبو سا
ہاتھ ہے وہ ہے وہ تیرا ہاتھ خوشبو سا

ہوں کے تجھ سے جدا اطراف ہوں
گل سے بچھڑی اناتھ خوشبو سا

11

Download Image

پاگلوں کی طرح ہے وہ ہے وہ اطراف رہا
عشق کے نام پہ ہم نے کیا کیا کیا

5

Download Image

اک بے وجہ مری زندگی سے کیا چلا گیا تو
یوں لگ رہا ہے چنو خدا تھا چلا گیا تو

آنکھوں پہ کوئی روشنی پڑتی چلی گئی
رستے سے اپنے پھروں ہے وہ ہے وہ اطراف چلا گیا تو

4

Download Image

تمہارے واسطے جو اب نہیں قابل رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ
ا
نہیں پوچھو ذرا جن کے لیے مشکل رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ

اطراف پھروں رہا ہوں بعد تری ا
سے طرح سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ
کبھی دریا کبھی کشتی کبھی ساحل رہا ہوں ہے وہ ہے وہ

4

Download Image

ہر نف
سے آتی ہے اک مانو
سے سی خوشبو مجھے
کیا مری اطراف ہے وہ ہے وہ تیری ہوا ہے کربلا

3

Download Image

رات بھر من اطراف رہا اور ہے وہ ہے وہ ہے وہ
چین سے سو لگ پایا تمہاری قسم

2

Download Image

یوں اطراف نوی ی
ہاں ہر پہر
جو ہے ا
سے شہر تو کبھی ا
سے شہر

1

Download Image

ہے وہ ہے وہ ہوں صدیوں سے اطراف ہوا پیاسا دریا
اے خدا کچھ تو سمندر کے سوا دے مجھ کو

38

Download Image

اطراف کا لفظ کسی جگہ کے کناروں اور حدود کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر معاشرے کے حاشیے یا شعور کے کناروں کی علامت ہوتا ہے، جہاں معلوم نامعلوم سے ملتا ہے۔

شاعر 'اطراف' کا استعمال تنہائی اور انتقال کے موضوعات کو دریافت کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ یہ جسمانی اور استعارہ دونوں طرح سے کنارے پر ہونے کا احساس دلا سکتا ہے۔ اکثر تلاش اور دریافت کے موضوعات کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔

اطراف میں، شاعری کنارے پر رقص کرتی ہے، جہاں مانوس پراسرار میں تحلیل ہو جاتا ہے۔