Meaning of

گلزار

gulzaar • गुलज़ार

باغ; جنت; خوبصورتی کی جگہ

garden; paradise; a place of beauty

बाग; स्वर्ग; सुंदरता का स्थान

Persian

اب بھی کچھ ایسے ہیں دل ناشاد پرانی باقی
سامنے جن کے ہے کم تازہ گلابوں کی مہک

سن لیے کہ
لگ ترانے جو کسی بلبل کے
شور سے کم لگ لگےگی یہ پرندوں کی چہک

3

Download Image

سو دیکھ کر تری رخسار و لب یقین آیا
کہ پھول کھلتے ہیں دل ناشاد کے علاوہ بھی

35

Download Image

مانا کہ ا
سے ز
ہے وہ ہے وہ ہے وہ کو لگ دل ناشاد کر سکے
کچھ بچھاؤ کم تو کر گئے گزرے جدھر سے ہم

22

Download Image

روشنی ایسی غضب تھی رنگ بھومی کی نسیم گلزار ناز
ہوں گئے کردار مدغم کرشن بھی رادھا لگا

17

Download Image

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت تاکتے
نام ہم نے کبھی دل ناشاد نہیں رکھا ہے

8

Download Image

ऐ मेरी ज़िंदगी ऐ मेरी हम-नवा तू कहाँ रह गई मैं कहाँ आ गया
कुछ न अपनी ख़बर कुछ न तेरा पता तू कहाँ रह गया मैं कहाँ आ गया

सब्ज़ शाख़ों से गुल यूँँही चुनना कभी गुल से गुलज़ार के ख़्वाब बुनना कभी
फ़ुर्सत-ए-इब्तिदा हसरत-ए-इंतिहा तू कहाँ रह गई मैं कहाँ आ गया

8

Download Image

سامان نفرتوں کا ہے بسیار دیکھیے
دھیمی پڑی سفر کہ یہ رفتار دیکھیے

دل ناشاد کو کرم کہ ضرورت کبھی نہ تھی
سوکھے پڑے ہوئے ہیں جو اشجار دیکھیے

7

Download Image

منانے کی تمہیں کوشش ہے وہ ہے وہ ہم بھی ہوں گئے لاچار
دوبارہ لوٹ آؤ اے صنم دل کو کروں دل ناشاد

5

Download Image

کوئی آساں نہیں دل ناشاد کرنا پیار کا گلشن
ج
گر کے خون سے آب جاں نثاری اسے تب جا کے کھلتا ہے

5

Download Image

لگ جانے کب سے صحرا تھا مری دل کا جزیرہ
تری ب
سے ایک گل نے کر دیا دل ناشاد اس کا کو

4

Download Image

اب بھی کچھ ایسے ہیں دل ناشاد پرانی باقی
سامنے جن کے ہے کم تازہ گلابوں کی مہک

سن لیے کہ
لگ ترانے جو کسی بلبل کے
شور سے کم لگ لگےگی یہ پرندوں کی چہک

3

Download Image

سو دیکھ کر تری رخسار و لب یقین آیا
کہ پھول کھلتے ہیں دل ناشاد کے علاوہ بھی

35

Download Image

اصل میں، گلزار ایک سرسبز باغ کی تصویر پیش کرتا ہے، جو زندگی اور خوبصورتی سے بھرپور ہوتا ہے۔ شاعری میں، یہ جنت کا استعارہ بن جاتا ہے، ایک ایسی جگہ جو ابدی خوبصورتی اور سکون سے معمور ہے۔ یہ لفظ فراوانی اور خوشحالی کا احساس لیے ہوتا ہے، اکثر خوشی کی حالت یا مثالی دنیا کی وضاحت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

شاعر اکثر گلزار کا استعمال ایک مثالی مقام یا محبوب کی موجودگی کی وضاحت کے لیے کرتے ہیں۔ یہ ایک کامل ہم آہنگی کے لمحے یا معمولی سے فرار کی علامت ہو سکتا ہے۔ یہ لفظ بنجر یا ویران تصویروں کے برعکس، خوبصورتی اور زندگی کو اجاگر کرتا ہے۔

گلزار خوبصورتی اور سکون کا جوہر پیش کرتا ہے، شاعروں کو ان کے خوابوں کو پینٹ کرنے کے لیے ایک کینوس فراہم کرتا ہے۔