Meaning of

زندان

jindaan • जिंदान

زندان; قید خانہ

prison; dungeon

कारागार; कालकोठरी

Persian

کسی سے کیا گلہ کیجے شجر اب
ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندان گھر سا لگ رہا ہے

0

Download Image

دیکھ زندان سے پرے رنگ چمن جوش بہار
رقص کرنا ہے تو پھروں پاؤں کی زنجیر لگ دیکھ

22

Download Image

اسی لیے تو ہے زندان کو جستجو مری
کہ واقف کو سکھائی ہے سرکشی ہے وہ ہے وہ نے

17

Download Image

روک سکتا ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندان بلا کیا مجروح
ہم تو آواز ہیں دیوار سے چھن جاتے ہیں

16

Download Image

اسی کے ہاتھ لگے گا سراغ ہستی کا
جو اپنی ذات کے زندان سے دور نکلےگا

6

Download Image

ب
سے اتنی سی مری تقدیر جستجو دل شکستہ
کبھی زندان کبھی زنجیر جستجو دل شکستہ

لگ ان آنکھوں نے اپنے خواب بدلے
لگ خوابوں نے کوئی تعبیر جستجو دل شکستہ

6

Download Image

موسم زندان بدلے تو قف
سے دل ناشاد ہوں
قیدخانے کو بدل کر لابھ کچھ ہوگا نہیں

3

Download Image

ایمان کی دولت کا اثر سوکھ رہا ہے
کیا بات کہ سر سبز شجر سوکھ رہا ہے

آرام نہیں آب و زیست کو زندان ہے وہ ہے وہ سرور
ہر لمحہ میرا کسب ہنر سوکھ رہا ہے

3

Download Image

پہلے زندان ہے وہ ہے وہ ا
سے کی تصویر لگائی جائے
پھروں چاہے جتنا مری عمر قید بڑھائی جائے

3

Download Image

لگ جانے کب بھلا مجھ پہ گرے گی برق آ کر
لگ جانے کب بھلا چھوٹوںگا ا
سے زندان سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ

لگ جانے کب بھلا ٹوٹےگی سر پہ کوئی آفت
لگ جانے کب بھلا جاؤں گا آخر جان سے ہے وہ ہے وہ

0

Download Image

کسی سے کیا گلہ کیجے شجر اب
ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندان گھر سا لگ رہا ہے

0

Download Image

دیکھ زندان سے پرے رنگ چمن جوش بہار
رقص کرنا ہے تو پھروں پاؤں کی زنجیر لگ دیکھ

22

Download Image

لفظ 'زندان' کا مطلب ہے قید خانہ یا کال کوٹھری، جو قید اور تاریکی کی تصاویر اجاگر کرتا ہے۔ شاعری میں یہ روح کے دنیاوی خواہشات میں پھنسنے یا غم اور آرزو کے بوجھ کا استعارہ ہے۔

شاعر 'زندان' کا استعمال اکثر قسمت کی زنجیروں کے خلاف انسانی روح کی جدوجہد کو پیش کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ نامکمل خواہشات سے قید دل کی اندرونی کشمکش کی نمائندگی بھی کر سکتا ہے۔

شاعرانہ منظرنامے میں، 'زندان' وجود کے سائے میں آزادی کی روح کی آرزو کا استعارہ ہے۔