Meaning of

منتظر

muntazar • मुंतज़र

منتظر; امید وار

awaiting; expectant

प्रतीक्षारत; आशान्वित

Arabic

ہے نار دوستوں کثرت سے منتظر ان کی
غم حسین ہے وہ ہے وہ جو کاروبار کرتے ہیں

یہ سب ہیں گلشن حیدر کے گل شجر زی
گرا
یہ گل تبسم لب سے شکار کرتے ہیں

5

Download Image

اسی کا منتظر بھی ہے ہمارا دل
اسی کو بھول
لگ بھی چاہتے ہے ہم

55

Download Image

جاناں محبت سے نہیں مجھ سے خفا ہوں شاید
جاناں ا
گر چاہو تو پنجرہ بھی بدل سکتے ہوں

منتظر ہوں ہے وہ ہے وہ سو نمبر بھی نہیں بدلوں گا
اور جاناں شہر کا نقشہ بھی بدل سکتے ہوں

51

Download Image

منتظر ہوں کہ ستاروں کی ذرا آنکھ لگے
چاند کو چھت پہ بلا لوں گا اشارہ کر کے

50

Download Image

لگ جانے باہر بھی کتنے آسیب منتظر ہوں
ابھی ہے وہ ہے وہ اندر کے آدمی سے ڈرا ہوا ہوں

33

Download Image

حقیقت تھے جواب کے ساحل پہ منتظر لیکن
سمے کی ناو ہے وہ ہے وہ میرا سوال ڈوب گیا تو

25

Download Image

سال پر سال اور پھروں ا
سے سال
منتظر ہم تھے منتظر ہم ہیں

20

Download Image

اب دعائیں پا رہا ہے ہر منتظر کی
کیا غضب ہوگا حقیقت ج
سے نے خود کشی ایجاد کی

شاعری کا یہ ہنر کچھ دیر سے آیا م
گر
جی حضوری کی نہیں ہے وہ ہے وہ نے کسی استاد کی

15

Download Image

دو چار لوگ گھر کے ا
گر مری چھوڑ دو
باقی کسی کی آنکھ ہے وہ ہے وہ جنتا نہیں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ

کب سے ہوں منتظر حقیقت میرا حال پوچھ لیں
اور مسکرا کے ہے وہ ہے وہ ک
ہوں اچھا نہیں ہوں ہے وہ ہے وہ

8

Download Image

منتظر ہوں ہے وہ ہے وہ ترا رادھا وگر
لگ
گوپیاں ا
سے شہر کی بھی کم نہیں ہیں

7

Download Image

ہے نار دوستوں کثرت سے منتظر ان کی
غم حسین ہے وہ ہے وہ جو کاروبار کرتے ہیں

یہ سب ہیں گلشن حیدر کے گل شجر زی
گرا
یہ گل تبسم لب سے شکار کرتے ہیں

5

Download Image

اسی کا منتظر بھی ہے ہمارا دل
اسی کو بھول
لگ بھی چاہتے ہے ہم

55

Download Image

منتظر انتظار کی کشیدگی اور امید کو مجسم کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ توقع کے جذباتی منظرنامے کو پکڑتا ہے، جہاں خواہش اور صبر آپس میں ملتے ہیں۔ یہ لفظ تیاری کی حالت کا اشارہ دیتا ہے، ایک ایسا دل جو تکمیل کے کنارے پر کھڑا ہے۔

شاعر اکثر 'منتظر' کا استعمال خواہش اور امید کے موضوعات کو دریافت کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ ملاپ سے پہلے کے خاموش لمحات، عاشق کی خاموش دعاؤں، یا خواب دیکھنے والے کی صبر آمیز انتظار کو بیان کر سکتا ہے۔

منتظر امید اور صبر کے درمیان نازک توازن کو پکڑتا ہے، انسانی روح کی مضبوطی کا ثبوت ہے۔