Meaning of

اوجھل

ojhal • ओझल

چھپا ہوا; نظر سے اوجھل; غائب

hidden; unseen; out of sight

छुपा हुआ; अदृश्य; दृष्टि से ओझल

Sanskrit

ساری باتیں اپنی جگہ ہیں لیکن ہے وہ ہے وہ اک بات ک
ہوں
جاناں آنکھوں سے اوجھل ہوتے ہی خوابوں ہے وہ ہے وہ آ جاتی ہوں

1

Download Image

بوڑھی بوجھل سوکھی آنکھیں دیکھ رہی ہیں حیرت سے
کچی عمر کے لڑکوں نے کچھ ایسی باتیں لکھی ہیں

41

Download Image

مری آنسو مری اندر ہی گرے
رونے سے جی اور بوجھل ہوں گیا تو

29

Download Image

جنہیں ہم دیکھ کر جیتے تھے ناصر
حقیقت لوگ آنکھوں سے اوجھل ہوں گئے ہیں

29

Download Image

بچھڑے ہوئے تو ایک زما
لگ ہوا م
گر
حقیقت بے وجہ مری آنکھ سے اوجھل نہیں ہوا

19

Download Image

دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے اب آن ملو تو بہتر ہوں
ا
سے بات سے ہم کو کیا زار یہ کیسے ہوں یہ کیونکر ہوں

17

Download Image

ساتھ جتنے تھے ہمارے اب حقیقت اوجھل ہوں گئے ہیں
زندگی کی دوڑ ہے وہ ہے وہ ہم ا
سے دودمان پیچھے کھڑے ہیں

3

Download Image

اس کا کو جاناں نے کم سمجھا ہے
حقیقت ب
سے کہنے کو اچھا ہے

ب
سے جاناں کو ہی ہم دکھتے ہے
دنیا کو بڑھانے دکھتا ہے

ج
سے کی جاناں چاہت کرتی ہوں
حقیقت لڑکا جانے کیسا ہے

جب سے جاناں دی سے اوجھل
تب سے مجھ کو کم دکھتا ہے

2

Download Image

ज़रा से हम ही बेकल हो गए हैं
सभी ग़म वरना ओझल हो गए हैं

जहाँ पैवंदकारी की थी तू ने
वो दिल वीरान जंगल हो गए हैं

हमारा मसअला ही मसअला है
मसाइल साथ के हल हो गए हैं

तेरे गाओं के मुर्दा दिल बसा कर
हमारे शहर बोझल हो गए हैं

उसे इक लम्हे की फ़ुर्सत मिली है
मेरे दिन रात इक पल हो गए हैं

बड़ी ताख़ीर से हम मुस्कुराए
कहा था उस ने पागल हो गए हैं

शजरकारी तेरी यादों में की है
हमारे पेड़ संदल हो गए हैं

वहाँ दरवाज़ा उस ने दिल का खोला
यहाँ रस्ते मुअत्तल हो गए हैं

तेरे कूचे से गुज़रे थे मुसाफ़िर
सुना है पाँव मख़मल हो गए हैं

2

Download Image

نام لکھوں جو تیرا پتھر بھی مخمل ہوں جائے
چاند لکھوں تو سارے تارے بھی اوجھل ہوں جائے

جام ک
ہوں تو آنکھیں تیری دیکھے و مری کافر
نام لوں تیرا محفل ہے وہ ہے وہ تو یار غزل ہوں جائے

2

Download Image

ساری باتیں اپنی جگہ ہیں لیکن ہے وہ ہے وہ اک بات ک
ہوں
جاناں آنکھوں سے اوجھل ہوتے ہی خوابوں ہے وہ ہے وہ آ جاتی ہوں

1

Download Image

بوڑھی بوجھل سوکھی آنکھیں دیکھ رہی ہیں حیرت سے
کچی عمر کے لڑکوں نے کچھ ایسی باتیں لکھی ہیں

41

Download Image

اوجھل وہ احساس بیدار کرتا ہے جب کچھ یا کوئی نظر سے دور ہو جاتا ہے، ایک ایسی موجودگی جو محسوس ہوتی ہے مگر دکھائی نہیں دیتی۔ شاعری میں، یہ اکثر یادوں یا جذبات کی اس مایوسی کی علامت ہوتا ہے جو بس پہنچ سے باہر ہوتی ہیں۔

شاعر اوجھل کا استعمال حسن یا محبت کی عارضی نوعیت کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ سورج کے غروب ہونے، محبوب کی موجودگی کے غائب ہونے، یا کسی عزیز خواب کے پیچھے ہٹنے کا اشارہ دے سکتا ہے۔

اوجھل موجودگی اور عدم موجودگی کے درمیان نازک رقص کو پکڑتا ہے، زندگی کے عارضی لمحات کی یاد دلاتا ہے۔