Meaning of

قاف

qaaf • क़ाफ़

ق حرف; پہاڑوں کی قطار; رکاوٹوں کی علامت

letter Q; a mountain range; a metaphor for obstacles

क़ अक्षर; पहाड़ों की श्रंखला; बाधाओं का प्रतीक

Arabic

اسے کیا ہی پتا ہوگا عبادت ک
سے کو کہتے ہے
مجھے پوچھا جو کرتی تھی محبت ک
سے کو کہتے ہے

سبھی وعدے سبھی ق
سے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ صنم نکلے قاف
یوں قصے
تصور سے ہے وہ ہے وہ نے سیکھا حقیقت ک
سے کو کہتے ہے

12

Download Image

زندگی یوں ہوئی بسر تنہا
قافلہ ساتھ اور سفر تنہا

50

Download Image

سر زمین ہند پر اقوام عالم کے فراق
بندھو بستے گئے ہندوستان بنتا گیا تو

48

Download Image

ہم سفر چاہیے ہجوم نہیں
اک مسافر بھی قافلہ ہے مجھے

44

Download Image

ہم بندھو سے بچھڑے ہوئے ہیں م
گر نبیل
اک راستہ ا
پیش سے نکالے ہوئے تو ہیں

34

Download Image

تیرا پیچھا کرتے کرتے جانے کیوں
ہے وہ ہے وہ ہے وہ دنیا داری سے پیچھے چھوٹ گیا تو

تو نے تو اے جان قاف
یوں دل توڑا تھا
تو کیا جانے ہے وہ ہے وہ اندر تک ٹوٹ گیا تو

29

Download Image

رابطہ لاکھ صحیح قافلہ سالار کے ساتھ
ہم کو چلنا ہے م
گر سمے کی رفتار کے ساتھ

28

Download Image

مری شاعر ہے وہ ہے وہ وہی قافلہ جسے
چاہنے والے بے حد جاننے والے کم ہیں

25

Download Image

مجروح بندھو کی مری داستان یہ ہے
رہبر نے مل کے لوٹ لیا راہزن کے ساتھ

19

Download Image

ہے وہ ہے وہ اطراف ہی رہا دشت شناسائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ
کوئی اترا ہی نہیں روح کی گہرائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

کیا ملایا ہے بتا جام پذیرائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ
خوب نشہ ہے تیری حوصلہ افزائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

تیری یادوں کی سوئی پریم کا دھاگا میرا
کام آئی ہیں بے حد زخموں کی تڑ
پائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

ڈ
سے رہی ہے یہ سیہ رات کی سیپی مجھ کو
بھر رہی زہر خموشی رگ تنہائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

سرمہ مکر و فریب آنکھوں ہے وہ ہے وہ جب سے ہے لگا
تب سے ہے خوب اضافہ حد بینائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

فکر و فن رنگ تغزل لگ غزل کی خوشبو
ب
سے لگا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ قافیہ پیمائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

سیکھ پانی سے ہنر کام انی
سے آئےگا
دوڑ کر خود ہی چلا آتا ہے گہرائی ہے وہ ہے وہ

13

Download Image

اسے کیا ہی پتا ہوگا عبادت ک
سے کو کہتے ہے
مجھے پوچھا جو کرتی تھی محبت ک
سے کو کہتے ہے

سبھی وعدے سبھی ق
سے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ صنم نکلے قاف
یوں قصے
تصور سے ہے وہ ہے وہ نے سیکھا حقیقت ک
سے کو کہتے ہے

12

Download Image

زندگی یوں ہوئی بسر تنہا
قافلہ ساتھ اور سفر تنہا

50

Download Image

قاف، یہ حرف، تنہا اور بلند کھڑا ہوتا ہے، جیسے افق پر پھیلی پہاڑوں کی قطار۔ شاعری میں، یہ ان دشوار چیلنجوں کی علامت ہے جن کا سامنا زندگی کے سفر میں کرنا ہوتا ہے۔ اس کا منفرد خمیدہ شکل راز و گہرائی کا احساس دلاتا ہے۔

شعراء اکثر 'قاف' کا استعمال ناقابل تسخیر رکاوٹوں کی تصویر پیش کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ یہ دل کی اندرونی جدوجہد یا دنیا کی طرف سے پیش کردہ بیرونی چیلنجوں کی نمائندگی کر سکتا ہے۔ یہ لفظ 'ساحل' (کنارہ) کے برعکس ہے، جو معلوم سے نامعلوم کی طرف سفر کا اشارہ دیتا ہے۔

قاف انسانی روح کی مضبوطی کا ثبوت ہے۔ یہ شاعر کو نامعلوم کی وسعت کو دریافت کرنے کی دعوت دیتا ہے۔