Meaning of

کلائی

qalaai • क़लाई

کلائی

wrist

कलाई

Unknown

ک
ہوں کیا حال تیری بے وفائی کا
تنک بھی غم نہیں مجھ سے جدائی کا

دیا تھا ماں نے جو تجھ کو بہو کہ کر
ک
ہاں ہے یار حقیقت کنگن کلائی کا

3

Download Image

بات ہی کب کسی کی معنی ہے
اپنی ہٹھ پوری کر کے موڑوگی

یہ کلائی یہ جسم اور یہ کمر تراش
جاناں سراحی ضرور توڑوگی

162

Download Image

بھلے ہی سیکڑوں مجبوریاں ہوں بے وفائی کی
م
گر جاناں وجہ مت بننا کسی سونی کلائی کی

56

Download Image

بتا رہا ہے جھٹکنا تیری کلائی کا
ذرا بھی رنج نہیں ہے تجھے جدائی کا

میں زندگی کو کھلے دل سے خرچ کرتا تھا
حساب دینا پڑا مجھ کو پائی پائی کا

50

Download Image

پچھلے بر
سے بھی ہم نے کلائی سجائی تھی
راکھی کے دھاگے آج بھی کچے نہیں پڑے

34

Download Image

سوچتا ہوں سمے کی تصویر جب مجھ سے بنےگی
تو بھلا ا
سے کی کلائی پر گھڑی کیسی لگےگی

چائے ا
سے سے پوچھ تو سکتا ہوں ہے وہ ہے وہ بھی दोस्त,लेकिन
سوچتا ہوں کون سا حقیقت کہنے بھر سے چل پڑےگی

31

Download Image

مری ہن
گرا سے ملنا تو ا
نہیں پیغام یہ دینا
کہ بھائی اب نہیں تو کیا خدائی تو سلامت ہے

ہوا کیا جو کے دشمن نے کیا دھڑ سے ا
پیش سر کو
لو باندھو راکھیاں ا
سے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ کلائی تو سلامت ہے

15

Download Image

کبھی کبھی سبھی تہوار یاد آتے ہیں
تری بغیر کلائی ادا
سے کرتی ہے

11

Download Image

ی
ہاں فولاد سی مضبوط ہوتی ہے کلائی
ا
گر ہیں ساتھ ہے وہ ہے وہ صاحب بڑے دو چار بھائی

6

Download Image

تمہارا دل نہیں توڑوں گی جانی
م
گر جاناں کو نہیں چھوڑوں گی جانی

محبت ہے وہ ہے وہ ہوا ہے جو ہوا ہے
کلائی اب نہیں موڑوں گی جانی

4

Download Image

ک
ہوں کیا حال تیری بے وفائی کا
تنک بھی غم نہیں مجھ سے جدائی کا

دیا تھا ماں نے جو تجھ کو بہو کہ کر
ک
ہاں ہے یار حقیقت کنگن کلائی کا

3

Download Image

بات ہی کب کسی کی معنی ہے
اپنی ہٹھ پوری کر کے موڑوگی

یہ کلائی یہ جسم اور یہ کمر تراش
جاناں سراحی ضرور توڑوگی

162

Download Image

کلائی، جو کلائی ہے، نزاکت اور کمزوری کی علامت ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر انسانی تعلقات کی نازکی اور وعدوں اور بندھنوں کی نازک نوعیت کی نمائندگی کرتا ہے۔

شاعر کلائی کا استعمال نرمی اور قربت کی تصاویر کو اجاگر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ عاشق کے نرم لمس یا دوستی کے بندھنوں کی علامت ہو سکتا ہے۔ کلائی وقت کے گزرنے کا بھی استعارہ ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ گھڑیوں اور کنگنوں کا وزن اٹھاتی ہے۔

کلائی انسانی نازکی اور تعلق کی روح کو پکڑتی ہے۔ یہ ہمارے بندھنوں کی خوبصورتی اور عارضی ہونے کی یاد دہانی ہے۔