Meaning of

قلعہ

qila • क़िला

قلعہ; قلعہ بند

fort; stronghold

किला; दुर्ग

Arabic

شاعری سے انقلاب آئی تو کیسے
سن کے سب تالی بجانے ہے وہ ہے وہ لگے ہیں


شعر کرکش کون محفل ہے وہ ہے وہ سنے گا

لوگ سارے ناچ گانے ہے وہ ہے وہ لگے ہیں

0

Download Image

کوئی تو سود چکائے کوئی تو ذمہ لے
ا
سے انقلاب کا جو آج تک ادھار سا ہے

31

Download Image

بے حد برباد ہیں لیکن صدائے انقلاب آئی
وہیں سے حقیقت پکار اٹھےگا جو ذرہ ج
ہاں ہوگا

27

Download Image

دیکھ رفتار انقلاب فراق
کتنی آہستہ اور کتنی تیز

25

Download Image

انقلاب آئےگا رفتار سے مایو
سے لگ ہوں
بے حد آہستہ نہیں ہے جو بے حد تیز نہیں

17

Download Image

بن تری میرا گھر بھی لگے گھر نہیں
ایسا مانو کی پنچھی ہوں پر پر نہیں

جل محل ہوں یا ہوں آگرہ کا قلعہ
جاناں سا شیتل نہیں جاناں سا سندر نہیں

5

Download Image

جب تک کہ آدمی کو سکون کی تلاش ہے
سو انقلاب آئیں گے اک انقلاب کیا

4

Download Image

شہید اعظم بھگت سنگھ
آنکھوں ہے وہ ہے وہ حقیقت آنسو نہیں

کچھ خواب سنجویا کرتا تھا
وطن کی آزادی کے خاطر

خونی آنسو رویا کرتا تھا
آزادی کا دیوانہ تھا حقیقت

رگوں ہے وہ ہے وہ ابال خاندانی تھا
جس نے سب کچھ لٹا دیا اپنا

حقیقت ویر ہندیوں بلیدانی تھا
انگاروں پر چل کر جس نے

ایک نئی راہ بنائی تھی
اس کا کا متوالے شعر نے قسم

آزادی کی کھائی تھی
چاہے عمر کم رہی ہوں لیکن

حقیقت ایک لمبی کہانی تھا
جس نے سب کچھ لٹا دیا اپنا

حقیقت ویر ہندیوں بلیدانی تھا
جس کے دل ہے وہ ہے وہ صرف اور صرف

انقلاب کی آگ تھی
آنکھوں ہے وہ ہے وہ تھی جلتی جوالا

لباس جس کا تیاگ تھی
ہر دل ہے وہ ہے وہ نشان چھوڑ گیا تو حقیقت

بھارت ماں کی نشانی تھا
جس نے سب کچھ لٹا دیا اپنا

حقیقت ویر ہندیوں بلیدانی تھا
جب تک دھرتی امبر ہوں گے

مٹ نہ سکےگا نام تمہارا
بھارت کا ہر بچہ بچہ

یاد رکھے گا کام تمہارا
سمندر سے بھی گہرا تھا جو

خود ہے وہ ہے وہ ہی ایک روانی تھا
جس نے سب کچھ لٹا دیا اپنا

حقیقت و

2

Download Image

फ़क़त ग़ुलामियों का नर्म-सा क़दम है इश्क़ भी
ये बात और है कि नाम इंक़िलाब का दिया

1

Download Image

ہے وہ ہے وہ پہلے بھی تو جاناں سے یہ کہ چکا ہوں
مشکل سے شب ہجر کو سہ چکا ہوں

کبھی نیوں پکی محبت کی تھی ج
سے کی
وہی ہے وہ ہے وہ قلعہ ہوں جو اب ڈھہ چکا ہوں

0

Download Image

شاعری سے انقلاب آئی تو کیسے
سن کے سب تالی بجانے ہے وہ ہے وہ لگے ہیں


شعر کرکش کون محفل ہے وہ ہے وہ سنے گا

لوگ سارے ناچ گانے ہے وہ ہے وہ لگے ہیں

0

Download Image

کوئی تو سود چکائے کوئی تو ذمہ لے
ا
سے انقلاب کا جو آج تک ادھار سا ہے

31

Download Image

قلعہ طاقت اور حفاظت کی تصاویر کو جنم دیتا ہے، بیرونی دنیا کی افراتفری کے خلاف ایک قلعہ۔ شاعری میں، یہ جسمانی اور جذباتی قلعوں دونوں کی علامت ہے، حفاظت اور تنہائی کی نمائندگی کرتا ہے۔

شاعر 'قلعہ' کا استعمال دفاع اور تنہائی کے موضوعات کی تلاش کے لیے کرتے ہیں۔ یہ دل کی رکاوٹوں یا دماغ کی پناہ گاہوں کی علامت ہو سکتا ہے۔ یہ لفظ اکثر کمزوری اور کھلے پن کے برعکس ہوتا ہے۔

قلعہ حفاظت اور تنہائی کی دوہری نوعیت کا ثبوت ہے۔