Meaning of

سیفی

safee • सैफ़ी

تلوار سے متعلق; جنگی

related to sword; martial

तलवार से संबंधित; युद्धक

Arabic

ڈوب جاتا ہیں سفینے پہ سفی
لگ مری دوست
اتنا گہرا ہیں تری آنکھ کا دریا مری دوست

اک طرف چلتی ہیں بھیگتا کی قوالی اور ہم
پھونکتے جاتے ہیں تیری یاد ہے وہ ہے وہ حقہ مری دوست

2

Download Image

چنو پتوار سفینے کے لیے ہوتے ہیں
دوست احباب تو جینے کے لیے ہوتے ہیں
عشق ہے وہ ہے وہ کوئی تماشا نہیں کرنا ہوتا
اشک چنو بھی ہوں پینے کے لیے ہوتے ہیں

35

Download Image

بچا لیا مجھے طوفاں کی موج نے ور
لگ
کنارے والے سفی
لگ میرا ڈبو دیتے

26

Download Image

سفینے کو کنارے سے بھنور اک موڑ دیتی ہے
ہوا جب تیز چلتی ہے عمارت توڑ دیتی ہے

محبت سات پردوں ہے وہ ہے وہ ج
گر ہری رکھتی ہے
قضا جب چلچلاتی ہے تو پردے توڑ دیتی ہے

23

Download Image

ساحل پہ قید لاکھوں سفینوں کے واسطے
مری شکستہ ناو ہے طوفاں لیے ہوئے

14

Download Image

گرداب ہے وہ ہے وہ ڈوبا سفی
لگ یاد آیا تب خدا
تا عمر ہم ا
سے ناخدا کی بندگی کرتے رہیں

4

Download Image

گر سماعت ہوں تجھے اے ہم سفیر
اک سمندر گفتگو کا دل ہے وہ ہے وہ ہے

4

Download Image

بھلانے ہے وہ ہے وہ کسی کو بھی پسینے چھوٹ جاتے ہیں
سفر کے ساتھ چلنے ہے وہ ہے وہ قبیلے چھوٹ جاتے ہیں

ا
گر قسمت ہوں اچھی تب سمندر ساتھ چلتا ہے
برا ہوں سمے تو صاحب سفینے چھوٹ جاتے ہیں

3

Download Image

سفینے کو سخن کے ڈوب جانے سے بچا مولا
کے ناشاعر ی
ہاں پر اب غزل کے شعر کہتے ہیں

3

Download Image

ہوا دل کسی پہ فدا رفتہ رفتہ
چلا پیار کا سلسلہ رفتہ رفتہ

محبت کی باتیں تمہیں کیا بتائیں
محبت سے سب کچھ ملا رفتہ رفتہ

خوشی آج مجھ کو ملی ہے ج
ہاں کی
غموں کا اندھیرا مٹا رفتہ رفتہ

یقیناً ادھر آوےگی عشق دل آج خوشبو
چلی پھروں سے باد جلوہ فروش صبا رفتہ رفتہ

رچی ج
سے نے سازش گرانے کی مجھ کو
وہی مجھ کو گرتا دکھا رفتہ رفتہ

بزرگوں کی سیوا کریں جو جتن سے
ملے ان کی جگ ہے وہ ہے وہ دعا رفتہ رفتہ

کٹھن راہ پر حوصلہ ساتھ ہوں تو
ملے منزلوں کا پتا رفتہ رفتہ

کمل مجھ کو طوفاں ڈرا پائیں گے کیا
سفر پر سفی
لگ چلا رفتہ رفتہ

3

Download Image

ڈوب جاتا ہیں سفینے پہ سفی
لگ مری دوست
اتنا گہرا ہیں تری آنکھ کا دریا مری دوست

اک طرف چلتی ہیں بھیگتا کی قوالی اور ہم
پھونکتے جاتے ہیں تیری یاد ہے وہ ہے وہ حقہ مری دوست

2

Download Image

چنو پتوار سفینے کے لیے ہوتے ہیں
دوست احباب تو جینے کے لیے ہوتے ہیں
عشق ہے وہ ہے وہ کوئی تماشا نہیں کرنا ہوتا
اشک چنو بھی ہوں پینے کے لیے ہوتے ہیں

35

Download Image

سیفی کا لفظ تلوار کی تیزی اور درستگی کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر طاقت، بہادری، اور سچائی کی دھار کی علامت ہوتا ہے۔ ہوا میں تلوار کے چلنے کی تصویر طاقتور اور خوبصورت دونوں ہے، جو تباہی اور حسن کی دوگانگی کو پکڑتی ہے۔

شاعر 'سیفی' کا استعمال بہادری اور تنازع کے موضوعات کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ اسے اکثر نرمی یا کمزوری کے برعکس رکھا جاتا ہے۔ یہ لفظ جنگجو کے اعزاز یا انصاف کی مسلسل تلاش کا بھی اشارہ دے سکتا ہے۔

سیفی تلوار کی خوبصورتی اور شدت کو سمیٹے ہوئے ہے۔ یہ بہادری اور سچائی کی تلاش کے دل کی بات کرتا ہے۔