Meaning of

سخن ور

suKHan-var • सुख़न-वर

شاعر; سخنور; لفظ ساز

poet; bard; wordsmith

कवि; शायर; शब्दकार

Persian

شاید کہ ا
سے
لیے بھی ہوا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ
مری کبھی بنی ہی نہیں زندگی کے ساتھ

3

Download Image

ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور

97

Download Image

ہر ایک لفظ کے تیور ہی اور ہوتے ہیں
تری ن
گر کے ہی اور ہوتے ہیں

تمہاری آنکھوں ہے وہ ہے وہ حقیقت بات ہی نہیں اے دوست
ڈبونے والے سمندر ہی اور ہوتے ہیں

64

Download Image

ا
سے ایک خط نے بنا دیا مجھ کو
حقیقت ایک خط کہ جو لکھا نہیں گیا تو مجھ سے

29

Download Image

جو ا
سے کا حسن لگ ہوں تو یہ سب سخن ور لوگ
سخن کو چھوڑ کے گائیں چرانے لگ جائے

4

Download Image

وہسّت یاروں مجھ کو اور بہتر ہونا ہے
زبان کچھ کہنی ہے غزلیں اور سخن ور ہونا ہے

4

Download Image

سخن ور بن گیا تو اب تو بتاؤ
بتاؤ گی نہیں تو ہاں سمجھ لوں

4

Download Image

حسن والوں میں سبھی کو نورستان ہونا چاہیے
اور اس کا کے ساتھ ہی نو رنگ ہونا چاہیے

صورت آشنا میں آئیں گے تو داد بھی دیں گے مگر
ہر سخن ور شرط ہے خود رنگ ہونا چاہیے

میں زمانے میں اگر بادہ آشامی تھا تو تم سے تھا
قبر میں بھی تم کو میرے سنگ ہونا چاہیے

تیس دن میں ایک دن ہی دل پہ دستک دیتے ہو
عشق کرنے کا کوئی تو ڈھنگ ہونا چاہیے

مجھ سے ہی بادہ آشامی ہے اس کا ملک کی مٹی تو پھروں
اس کا کا ترنگے میں بھی میرا انگ ہونا چاہیے

4

Download Image

کام مشکل ہے بے حد اچھا ہونا
ٹھیک تو یہ ہے ہے وہ ہے وہ مرزا ر
ہوں کیوں میر بنوں

4

Download Image

سفر مجھ ایسے سخن ور کا فرصتی کیسے
خراب عشق کو کہتی ہوں جان جاں کیسے

جاناں ا
سے سے کہ دو ہے وہ ہے وہ محفل ہے وہ ہے وہ ہوں حسینوں کی
اسے خبر ہے ہے وہ ہے وہ ہوتا ہوں کب کہاں کیسے

3

Download Image

شاید کہ ا
سے
لیے بھی ہوا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ
مری کبھی بنی ہی نہیں زندگی کے ساتھ

3

Download Image

ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور

97

Download Image

سخن ور ان لوگوں کے لیے عزت کا لقب ہے جو الفاظ کو فن میں بُنتے ہیں۔ یہ صرف لکھنے کی صلاحیت نہیں بلکہ زبان کی وہ مہارت ظاہر کرتا ہے جو خیالات کو گہری اظہار میں بدل دیتی ہے۔

شاعر اکثر 'سخن ور' کا جشن مناتے ہیں، انہیں لوگوں کی آواز، خوبصورتی اور سچائی کے خالق کے طور پر دیکھتے ہیں۔ وہ عام اور الہی کے درمیان پل کے طور پر دیکھے جاتے ہیں، زندگی کے جوہر کو پکڑتے ہیں۔

سخن ور روح کا معمار ہے، محض الفاظ سے دنیا تخلیق کرتا ہے۔