Meaning of

سخن ور

sukhan–var • सुखन–वर

شاعر; لفظ ساز

poet; wordsmith

कवि; शब्दकार

Persian

ہے وہ ہے وہ سخن ور یہ مرض مری لیے تھا
لڑکھڑانا اور ن
سے ن
سے لڑکھڑانا

2

Download Image

ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور

97

Download Image

سخن ور بن گیا تو اب تو بتاؤ
بتاؤ گی نہیں تو ہاں سمجھ لوں

4

Download Image

وہسّت یاروں مجھ کو اور بہتر ہونا ہے
زبان کچھ کہنی ہے غزلیں اور سخن ور ہونا ہے

4

Download Image

حسن والوں میں سبھی کو نورستان ہونا چاہیے
اور اس کا کے ساتھ ہی نو رنگ ہونا چاہیے

صورت آشنا میں آئیں گے تو داد بھی دیں گے مگر
ہر سخن ور شرط ہے خود رنگ ہونا چاہیے

میں زمانے میں اگر بادہ آشامی تھا تو تم سے تھا
قبر میں بھی تم کو میرے سنگ ہونا چاہیے

تیس دن میں ایک دن ہی دل پہ دستک دیتے ہو
عشق کرنے کا کوئی تو ڈھنگ ہونا چاہیے

مجھ سے ہی بادہ آشامی ہے اس کا ملک کی مٹی تو پھروں
اس کا کا ترنگے میں بھی میرا انگ ہونا چاہیے

4

Download Image

جو ا
سے کا حسن لگ ہوں تو یہ سب سخن ور لوگ
سخن کو چھوڑ کے گائیں چرانے لگ جائے

4

Download Image

اپنا ہی ایک موسم لیے پھرتے ہیں
لوگ جو دل کو پر غم لیے پھرتے ہیں

چارہ گر چنو ہیں یہ سخن ور سبھی
سب کے زخموں کا مرہم لیے پھرتے ہیں

3

Download Image

ب
سے خود کشی سے بچنے کا ذریعہ ہے شاعری
ہم کو سخن وری سے تو شہرت طلب نہیں

3

Download Image

سفر مجھ ایسے سخن ور کا فرصتی کیسے
خراب عشق کو کہتی ہوں جان جاں کیسے

جاناں ا
سے سے کہ دو ہے وہ ہے وہ محفل ہے وہ ہے وہ ہوں حسینوں کی
اسے خبر ہے ہے وہ ہے وہ ہوتا ہوں کب کہاں کیسے

3

Download Image

بنا ا
سے کے گزارا کب تلک ہوگا
سخن ور بھی ہمارا کب تلک ہوگا

2

Download Image

ہے وہ ہے وہ سخن ور یہ مرض مری لیے تھا
لڑکھڑانا اور ن
سے ن
سے لڑکھڑانا

2

Download Image

ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور

97

Download Image

اپنے اصل معنی میں، 'سخن ور' ایک ایسے شخص کی طرف اشارہ کرتا ہے جو مہارت اور فن کے ساتھ الفاظ کو تراشتا ہے۔ شاعری میں، یہ لفظ ایک ایسے خالق کی تصویر پیش کرتا ہے جو زبان کو خوبصورتی میں ڈھالتا ہے، جذبات اور خیالات کو درستگی کے ساتھ پکڑتا ہے۔

شاعر 'سخن ور' کا استعمال اپنے فن کی مہارت کو اجاگر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ اسے اکثر کسی ساتھی شاعر کی مہارت کا احترام کرنے یا الفاظ کی طاقت پر غور کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ اصطلاح زبان کے زیادہ عام اظہار کے برعکس ہے، لکھنے کے عمل کو ایک فن کی شکل میں بلند کرتی ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'سخن ور' الفاظ کی تبدیلی کی طاقت کا ثبوت ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زبان کتنی خوبصورتی اور گہرائی حاصل کر سکتی ہے۔