Meaning of

قم

qum • क़ुम

اٹھنا; کھڑا ہونا; جاگنا

rise; stand up; awaken

उठना; खड़ा होना; जागना

Arabic

ہے وہ ہے وہ آ رہا ہوں ابھی چوم کر بدن ا
سے کا
سنا تھا آگ پہ بوسہ رقم نہیں ہوتا

27

Download Image

یہ تیرے خط یہ تیری خوشبو یہ تیرے خواب و خیال
متاع جاں ہیں تیرے قول اور قسم کی طرح

گزشتہ سال ہے وہ ہے وہ نے نہ گنکر رکھا تھا
کسی غریب کی جوڑی ہوئی رقم کی طرح

74

Download Image

آپ مجھ کو بے حد پسند آئیں
آپ مری قمیض سیجیےگا

50

Download Image

تجھے خیال نہیں ہے سو ہم بڑھا رہے ہیں
پھروں اک دفع تیری زانیب قدم بڑھا رہے ہیں

بے حد سے آئی تجھے جیتنے کی خواہش ہے وہ ہے وہ ہے وہ
ہم ایک کونے ہے وہ ہے وہ بیٹھے رقم بڑھا رہے ہیں

48

Download Image

مری رشک قمر تو نے پہلی نظر جب نظر سے ملائی مزہ آ گیا تو
برق سی گر گئی کام ہی کر گئی آگ ایسی لگائی مزہ آ گیا تو

39

Download Image

لگ ہوں قمیض تو گھٹنوں سے پیٹ ڈھک لیںگے
یہ لوگ کتنے مناسب ہیں ا
سے سفر کے لیے

35

Download Image

ہم پرورش لوح و کرتے رہیں گے
جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے

33

Download Image

بجز خدا کے کسی کا ہم پہ کرم نہیں ہے یہ کم نہیں ہے
کسی کا سجدہ جبیں پہ اپنی رقم نہیں ہے یہ کم نہیں ہے

ہماری چپپی یہ ہے غنیمت وگر
لگ یہ جو کیا ہے جاناں نے
یقین مانو ہمارا ماتھا گرم نہیں ہے یہ کم نہیں ہے

30

Download Image

ہے وہ ہے وہ آ رہا ہوں ابھی چوم کر بدن ا
سے کا
سنا تھا آگ پہ بوسہ رقم نہیں ہوتا

29

Download Image

ہزاروں قمقموں سے جگمگاتا ہے یہ گھر لیکن
جو من ہے وہ ہے وہ جھانک کے دیکھوں تو اب بھی روشنی کم ہے

29

Download Image

ہے وہ ہے وہ آ رہا ہوں ابھی چوم کر بدن ا
سے کا
سنا تھا آگ پہ بوسہ رقم نہیں ہوتا

27

Download Image

یہ تیرے خط یہ تیری خوشبو یہ تیرے خواب و خیال
متاع جاں ہیں تیرے قول اور قسم کی طرح

گزشتہ سال ہے وہ ہے وہ نے نہ گنکر رکھا تھا
کسی غریب کی جوڑی ہوئی رقم کی طرح

74

Download Image

لفظ 'قم' نیند یا بے عملی سے اٹھنے کی تصویر پیش کرتا ہے۔ اپنے اصل معنی میں، یہ جسمانی حرکت کو ظاہر کرتا ہے، آرام سے سرگرمی کی طرف منتقلی۔ شاعری نے اس لفظ کو روح اور ذہن کے بیداری کی علامت بنا لیا ہے، جو مصیبت کے خلاف اٹھنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

شاعر 'قم' کا استعمال عمل اور استقامت کو تحریک دینے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ اکثر ان اشعار میں آتا ہے جو کسی کی صلاحیت کے بیداری یا ظلم کے خلاف اٹھنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ لفظ سکون کے برعکس ہے، حرکت اور تبدیلی کا اصرار کرتا ہے۔

شاعری میں، 'قم' اٹھنے کی پکار ہے، ایک ممکنہ صلاحیت کی سرگوشی جو حقیقت بننے کی منتظر ہے۔