Meaning of

سہولت

sahooliyat • सहूलियत

سہولت; آسانی; سہل

convenience; ease; facility

सुविधा; सरलता; सहूलियत

Arabic

خدا بھی دیکھ لے گر ظرف میرا تو کرےگا واہ
انہوں نے خود کشی کر لی جنہیں تھا مجھ سے آدھا دکھ

یہی بس اک سہولت آدمی ہونے پہ ہے جگ ویر
کہ عورت کو زمانے نے دیے ہیں ہم سے زیادہ دکھ

4

Download Image

یہ مےکشوں کا توازن بھی کیا توازن ہے
کھڑے بھی رہنا سہولت سے لڑکھڑانا بھی

ہمارے شہر کے لوگوں کو خوب آتا ہے
کسی کو سر پہ بٹھانا بھی اور گرانا بھی

44

Download Image

تیری شرطوں پہ ہی کرنا ہے ا
گر تجھ کو قبول
یہ سہولت تو مجھے سارا ج
ہاں دیتا ہے

43

Download Image

ہے وہ ہے وہ زندگی کے سبھی غم بھلائے بیٹھا ہوں
تمہارے عشق سے کتنی مجھے سہولت ہے

42

Download Image

سمے وفا حق آنسو شکوے جانے کیا کیا مانگ رہے تھے
ایک سہولت کے رشتے سے ہم ہی زیادہ مانگ رہے تھے

ا
سے کی آنکھیں ا
سے کی باتیں ا
سے کے لب حقیقت چہرہ ا
سے کا
ہم ا
سے کی ہر ایک ادا سے اپنا حصہ مانگ رہے تھے

39

Download Image

حقیقت جو اک بے وجہ مجھے تانا جاں دیتا ہے
مرنے لگتا ہوں تو مرنے بھی ک
ہاں دیتا ہے

تیری شرطوں پہ ہی کرنا ہے ا
گر تجھ کو قبول
یہ سہولت تو مجھے سارا ج
ہاں دیتا ہے

36

Download Image

اپنے ہونٹوں سے کہو پھول کو چو
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر روز
جب مری لب نہیں ہوں گے تو سہولت ہوں گی

30

Download Image

اب تو ہے وہ ہے وہ بال بڑھا سکتا ہوں
ہجر ہے وہ ہے وہ کتنی سہولت ہے مجھے

24

Download Image

بڑا مشکل عمل है,ये سہولت سے نہیں ہوتا
بے حد دشوار دکھنا بھی بے حد آسان ہونا بھی

5

Download Image

ک
ہاں پہ مسکرانا ہے ک
ہاں پہ خوشی لانے ہیں
ہمارے ہاتھ سے یہ بھی سہولت جا رہی ہے کیا

یہ خوشیاں کر رہی ہیں گھر مری دل ہے وہ ہے وہ مری اندر
اداسی سے محبت اور نسبت جا رہی ہے کیا

5

Download Image

خدا بھی دیکھ لے گر ظرف میرا تو کرےگا واہ
انہوں نے خود کشی کر لی جنہیں تھا مجھ سے آدھا دکھ

یہی بس اک سہولت آدمی ہونے پہ ہے جگ ویر
کہ عورت کو زمانے نے دیے ہیں ہم سے زیادہ دکھ

4

Download Image

یہ مےکشوں کا توازن بھی کیا توازن ہے
کھڑے بھی رہنا سہولت سے لڑکھڑانا بھی

ہمارے شہر کے لوگوں کو خوب آتا ہے
کسی کو سر پہ بٹھانا بھی اور گرانا بھی

44

Download Image

اصل میں، 'سہولت' آسانی اور آرام کا احساس دیتی ہے، رکاوٹوں کا ہٹ جانا۔ شاعری میں، یہ زندگی کے نرم بہاؤ کی علامت ہے، جہاں رکاوٹیں ختم ہو جاتی ہیں اور راستہ ہموار ہو جاتا ہے۔

شاعر 'سہولت' کا استعمال سکون اور امن کے احساس کو جگانے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ جدوجہد اور مشکلات کے برعکس ہوتا ہے، ان لمحات کو اجاگر کرتا ہے جب زندگی بے حد آسان اور پر سکون محسوس ہوتی ہے۔

شاعری میں، 'سہولت' زندگی کی نرم آغوش کی سرگوشی ہے، جہاں روح کو آرام ملتا ہے۔