Meaning of

شعا

shua • शुआ

کرن; روشنی; جھلک

ray; beam; glimmer

किरण; प्रकाश; झलक

Arabic

لگ ہوں اشعار ہے وہ ہے وہ پاکستان لگ صحیح
خود کلامی کا ذریعہ ہی صحیح

جاناں لگ نوازو شعر کو لگ سنائیں گے
یہ میرا ذاتی نظریہ ہی صحیح

21

Download Image

امیر امام کے اشعار اپنی پلکوں پر
تمام ہجر کے مارے اٹھائے پھرتے ہیں

48

Download Image

لبوں ہے وہ ہے وہ آ کے قلفی ہوں گئے اشعار سر
گرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ
غزل کہنا بھی اب تو ہوں گیا تو دشوار سر
گرا ہے وہ ہے وہ

47

Download Image

اشعار مری یوں تو زمانے کے لیے ہیں
کچھ شعر فقط ان کو سنہانے کے لیے ہیں

یہ علم کا سودا یہ رسالے یہ کتابیں
اک بے وجہ کی یادوں کو بھلانے کے لیے ہیں

46

Download Image

مری اشعار پڑھنے والے لوگ
تیری تصویر مانگ بیٹھے ہیں

40

Download Image

سب خواہشیں پوری ہوں فراز ایسا نہیں ہے
چنو کئی اشعار مکمل نہیں ہوتے

34

Download Image

ا
سے
لیے نہیں رویا اشعار ہے وہ ہے وہ ہے وہ
وزن سے باہر تھی مری سسکیاں

31

Download Image

غم ہے وہ ہے وہ ہم صورت غمخوار نہیں پیسہ ہیں
ا
سے
لیے میر کے اشعار نہیں پیسہ ہیں

مری آنکھیں تیری تصویر سے جا لگتی ہیں
صبح اٹھکر سبھی ذائقہ نہیں پیسہ ہیں

31

Download Image

ا
سے ہجر پہ تہمت کہ جسے وصل کی ضد ہوں
ا
سے درد پہ ٹھکانا کی جو اشعار ہے وہ ہے وہ آ جائے

26

Download Image

شب فراق ہے وہ ہے وہ اشعار آشکار ہوئے
مجھے نہیں ہے صنم تجھ سے اب گلہ کوئی

23

Download Image

لگ ہوں اشعار ہے وہ ہے وہ پاکستان لگ صحیح
خود کلامی کا ذریعہ ہی صحیح

جاناں لگ نوازو شعر کو لگ سنائیں گے
یہ میرا ذاتی نظریہ ہی صحیح

21

Download Image

امیر امام کے اشعار اپنی پلکوں پر
تمام ہجر کے مارے اٹھائے پھرتے ہیں

48

Download Image

شعا کا اصل مطلب ہے روشنی کی کرن، جو تاریکی کو چیرتی ہے۔ شاعری میں یہ امید، علم اور لمحاتی خوبصورتی کی علامت بن جاتی ہے۔

شعرا اکثر 'شعا' کا استعمال صبح کی پہلی کرن، طوفان کے بعد کی پہلی روشنی، یا محبت اور تحریک کی ہلکی چمک کو ظاہر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ سائے اور تاریکی کے برعکس، وضاحت اور انکشاف کے لمحات کو اجاگر کرتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'شعا' اس روشنی کی نرم یاد دہانی ہے جو سب سے گہرے سائے میں بھی قائم رہتی ہے۔